پنجاب میں شدت پسند تنظیمیں اب بھی متحرک؟

- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان کے صوبے پنجاب کے شہر اٹک میں اتوار کو صوبائی وزیر داخلہ شجاع خانزادہ پر ہونے والے خودکش حملے سے بظاہر ایسا لگتا ہے کہ پنجاب میں نہ صرف شدت پسند تنظیمیں بدستور فعال ہیں بلکہ وہ کسی بھی بڑی شخصیت کو نشانہ بنانے یا کوئی بڑی کاروائی کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہیں۔
گزشتہ سال دسمبر میں پشاور میں آرمی پبلک سکول وکالج پر ہونے والے طالبان حملے میں 150 کے قریب طلباء اور اساتذہ کی ہلاکت کے واقعہ نے پوری قوم کو ہلاکر رکھ دیا تھا۔
اس کے بعد پاکستان کی سیاسی اور فوجی قیادت نے بھی پہلی مرتبہ سر جوڑ کر قومی ایکشن پلان ترتیب دیا جس کے تحت ملک میں موجود تمام شدت پسند تنظیموں کے خلاف بلا تفرق کاروائی کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
اس پلان کے تحت صوبہ پنجاب، جہاں اس سے پہلے عسکری تنظیموں کے خلاف کاروائیوں میں سست روی سے کام لیا جارہا تھا، وہاں بھی کاروائیاں شروع کی گئیں۔

،تصویر کا ذریعہPID
ملک بھر میں خیبر سے لے کراچی تک ہر طرف انٹیلیجنس معلومات کے تناظر میں بڑے پیمانے پر آپریشن کئے گئے جس میں حکام کے مطابق ہزاروں دہشت گرد گرفتار اور بڑی تعداد میں ہلاک کئے گئے۔ یہ کاروائیاں کافی حد تک موثر بھی رہی ہے کیونکہ عمومی طورپر ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں کمی دیکھی جارہی ہے۔
تاہم شجاع خانزادہ پر ہونے والے حملے نے ایک مرتبہ پھر کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ پنجاب میں حالیہ حملے سے بظاہر لگتا ہے کہ وہاں شدت پسندوں کا نیٹ ورک بدستور فعال ہے اور وہ کہیں بھی حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
شدت پسندی پر تحقیق کرنے والے سنیئر تجزیہ نگار اور مصنف ڈاکٹر خادم حسین کا کہنا ہے کہ پنجاب میں عسکری تنظیموں کا ایک مضبوط نیٹ ورک پہلے سے موجود تھا جو ماضی میں جی ایچ کیو اور دیگر حساس فوجی و حکومتی اہداف پر ہونے والے حملوں سے بھی ثابت ہوتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ حالیہ حملہ اس بات کی دلیل ہے کہ کالعدم تنظیمیں لشکر جھنگوی اور تحریک طالبان پاکستان بدستور بھر پور حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ان کے بقول شاید اس کاروائی کی منصوبہ بندی لشکر جھنگوی اور ٹی ٹی پی نے مل کر کی ہے تاکہ پنجاب حکومت کی قائم کردہ محکمہ انسدادِ دہشت گردی پر دباؤ ڈالا جاسکے یا ان کو کاروائیوں سے روکا جاسکے۔
خادم حسین کے مطابق قومی ایکشن پلان کے بارے میں عمومی طورپر یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے اس کے تحت جس طرح کی کاروائیاں فاٹا، خیبر پختونخوا، کراچی اور بلوچستان میں کی گئی اس طرح کے آپریشن پنجاب میں کم ہی نظر آئے۔
اگرچہ شجاع خانزادہ پر حملے کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان جماعت الحرار کی جانب سے قبول کی گئی ہے تاہم بعض میڈیا اطلاعات کے مطابق کالعدم لشکر جھنگوی کے کسی ایک گروپ نے بھی اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
جماعت الحرار کے ترجمان احسان اللہ احسان کی جانب سے ذرائع ابلاغ کو جاری کیے گئے مختصر ای میل پیغام میں کہا گیا ہے کہ ان کی تنظیم وزیر داخلہ پر حملے کی ذمہ قبول کرتی ہے۔
تاہم انہوں نے ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ ’ ہم اس حملے کےلیے اپنی ایک دوست تنظیم کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہEPA
ان لفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ حملہ دو تنظیموں کی مشترکہ کاروائی ہوسکتی ہے۔
’ملک اسحاق کی ہلاکت کا بدلہ‘
پنجاب میں عسکری تنظیموں پر کام کرنے والے اکثریتی تجزیہ نگاروں کا موقف ہے کہ غالب امکان یہی ہے کہ شجاع خانزادہ پر حملہ لشکر جھنگوی کے سابق امیر ملک اسحاق اور ان کے بیٹے کی پولیس حملے میں ہلاکت کا ردعمل ہوسکتا ہے۔
بعض اخباری اطلاعات کے مطابق پنجاب میں گزشتہ کچھ عرصے میں 50 کے قریب شدت پسند اور کالعدم تنظمیں سرگرم عمل رہی ہیں۔
بتایا جاتا ہے کہ جنوبی پنجاب ان تنظیموں کا اہم گڑھ رہا ہے جہاں ماضی میں کشمیر میں کاروائیوں کےلیے بھی صف بندیاں ہوتی رہی ہیں۔ پنجاب کی سب سے بڑی سیاسی جماعت مسلم لیگ ن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ماضی میں کالعدم تنظیموں کےلیے نرم رویہ رکھتی رہی ہے بلکہ یہاں تک کہا جاتا ہے کہ عام انتخابات کے دوران کئی مواقعوں پر مسلم لیگ نون اور کالعدم تنظیموں کے درمیان خفیہ اتحاد بھی رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
تاہم قومی ایکشن پلان کے اعلان کے بعد مسلم لیگ ن جو وفاق اور پنجاب میں حکومت کر رہی ہے نے بھی دہشت گردی کے خلاف اعلان جنگ بلند کیا ہے۔ یہ آمر بھی اہم ہے کہ شجاع خانزادہ مسلم لیگ ن کے پہلے ایسے بڑے رہنما ہے جو شدت پسندوں کے حملے کا نشانہ بنے ہیں۔ اس سے پہلے عوامی نیشنل پارٹی اور پیپلزپارٹی کے کئی بڑے رہنما، ممبران اسمبلی اور کارکن عسکریت پسندوں کے حملوں کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔







