باجوڑ ایجنسی میں پی پی پی کے سابق ایم این اے کا بیٹا اغوا

مغوی حسین شاہ کی عمر 12 سال کے لک بھگ بتائی جاتی ہے اور وہ چھٹی جماعت کے طالب علم ہیں

،تصویر کا ذریعہBBC Urdu

،تصویر کا کیپشنمغوی حسین شاہ کی عمر 12 سال کے لک بھگ بتائی جاتی ہے اور وہ چھٹی جماعت کے طالب علم ہیں
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان کے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ نامعلوم مسلح افراد نے پیپلز پارٹی کے سابق ایم این اے اور سابق صدر آصف علی زرداری کے سیاسی مشیر سید اخونزادہ چٹان کے صاحبزادے کو اغوا کر لیا ہے۔

پولیٹیکل انتظامیہ باجوڑ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ پیر کی صبح صدر مقام خار سے تقریباً آٹھ کلومیٹر دور خار منڈا سڑک پر پیش آیا۔

انھوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے رہنما اخونزادہ چٹان کے صاحبزادے سید حسین شاہ صبح کے وقت گھر سے سکول جا رہے تھے کہ نامعلوم مسلح افراد نے انھیں گھر کے قریب سے اغوا کر لیا۔

اہلکار کے مطابق اس واقعے کے بعد سکیورٹی فورسز نے صد مقام خار اور آس پاس کے علاقوں میں بڑے پیمانے پر تلاش کا کام شروع کر دیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ابھی تک یہ واضح نہیں کہ اغوا کی اس وارادت میں کون لوگ ملوث ہیں اور نہ کسی نے اب تک تاوان کا مطالبہ کیا ہے۔

مغوی حسین شاہ کی عمر 12 سال بتائی جاتی ہے اور وہ چھٹی جماعت کے طالب علم ہیں۔

اس سلسلے میں اخونزادہ چٹان کا موقف معلوم کرنے کےلیے بار بار ان سے رابطے کی کوشش کی گئی ہے لیکن کامیابی نہیں ہو سکی۔

یاد رہے کہ سید اخونزادہ چٹان کا شمار پیپلز پارٹی فاٹا کے اہم رہنماؤں میں ہوتا ہے۔ پارٹی کے مرکزی شریک چئیرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری کے ساتھ ان کے قریبی مراسم رہے ہیں اور قبائلی علاقوں کے لیے ان کے سیاسی مشیر بھی رہے ہیں۔ اخونزادہ چٹان قبائلی علاقوں میں تمام سیاسی جماعتوں کے مشترکہ سیاسی پلیٹ فارم آل فاٹا پولیٹیکل پارٹیز الائنس کے صدر بھی ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اخونزادہ چٹان کے بیٹے کے اغوا کی مذمت کی ہے اور ان کی بازیابی کے لیے اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

خیال رہے کہ سابق ممبر قومی اسمبلی اخونزادہ چٹان پر چند ماہ پہلے باجوڑ ایجنسی میں قاتلانہ حملہ ہوا تھا جس میں وہ محفوظ رہے تھے۔

قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد سے قبائلی سرداروں، مشران، سرکاری اہلکاروں اور ممبران پارلمینٹ پر سینکڑوں مرتبہ حملے ہو چکے ہیں جس میں بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوئی ہیں۔