قصور میں پولیس پر لوگوں کو ہراساں کرنے کا الزام

- مصنف, عدیل اکرم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر قصور میں بچوں سے مبینہ جنسی زیادتی کیس میں متاثرین کے وکیل نے الزام عائد کیا ہے کہ پولیس بےگناہ افراد کے گھروں میں چھاپے مار کر انھیں ہراساں کر رہی ہے۔
متاثرین کے وکیل لطیف سرا نے یہ بات سنیچر کو قصور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
وکیل لطیف سرا کا کہنا ہے کہ پولیس ایسے افراد کے گھروں پر چھاپے مار رہی ہے جو جنسی زیادتی کیس میں ملوث نہیں ہیں۔
وکیل کے مطابق پولیس نے بے گناہ افراد کے گھروں میں داخل ہو کر توڑ پھوڑ کی اور گھر کی خواتین سے بدتمیزی سے پیش آئے ہیں۔
لطیف سرا نے کہا کہ جنسی زیادتی کیس کے وہ متاثرین جو کہ پہلے خوف کے باعث خاموش تھے اور اب شکایات درج کروا رہے ہیں ایسے اقدامات سے وہ مزید خوف زدہ ہوں گے اور آنے والے دنوں وہ اپنے موقف پر قائم نہیں رہ سکیں گے۔
وکیل لطیف سرا نے کہا کہ ڈرانے اور دباؤ ڈالنے کا جو کام پہلے جنسی زیادتی کیس کے ملزمان کر رہے تھے اب وہ پولیس کر رہی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واضح رہے کہ پنجاب حکومت کی جانب سے مبینہ جنسی زیادتی کے واقعات کی تحقیقات کے لیے ڈی آئی جی ابوبکر خدا بخش کی سربراہی میں ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی تھی جو کہ پانچ روز سے قصور میں اپنی تحقیقات کر رہی ہے اور متاثرہ افراد کے بیانات قملبند کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

اِس موقع پر گاؤں کے رہائشی اور سماجی کارکن مُبین غزنوی نے کہا کہ پولیس نے پرامن مظاہرہ کرنے والوں کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کر رکھے ہیں۔
مبین غزنوی نے کہا کہ پولیس حکام کی جانب سے یقین دہانی کے باوجود مقدمات کو ختم نہیں کیا گیا۔
سماجی کارکن نے مطالبہ کیا کہ ایس پی انوسٹی گیشن قصور کو معطل کیا جائے اور مظاہرین کے خلاف جھوٹے مقدمات کو فی الفور ختم کیا جائے بصورت دیگر وہ جے آئی ٹی کا مکمل طور پر بائیکاٹ کریں گے۔
مبین غزنوی نے کہا کہ اگر پیر تک جھوٹے مقدمات ختم نہ کیے گے تو پھر آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائےگا اور اگر ضرورت محسوس ہوئی تو قصور سے لاہور کی جانب لانگ مارچ بھی کیا جائے گا۔
مبین غزنوی کا کہنا ہے کہ جنسی زیادتی میں ملوث جو ملزمان ابھی تک آزاد گھوم رہے ہیں اُن کو جلد از جلد گرفتار کیا جائے کیونکہ اُن سے مدعی اور اُن کے اہلخانہ کو خطرہ لاحق ہے۔







