قصور سکینڈل: فرائض سے غفلت پر دو پولیس افسران معطل

منگل کو بچوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کے واقعات کے سلسلے میں مزید چار افراد نے تھانے میں درخواست دی ہے

،تصویر کا ذریعہepa

،تصویر کا کیپشنمنگل کو بچوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کے واقعات کے سلسلے میں مزید چار افراد نے تھانے میں درخواست دی ہے
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف نے قصور میں بچوں سے جنسی زیادتی کے واقعے سے متعلق مکمل معلومات فراہم نہ کرنے پر ایڈیشنل آئی جی پنجاب سپیشل برانچ ڈاکٹر عارف مشتاق کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے ان کے علاوہ ڈی پی او قصور رائے بابر سعید کو بھی ان کےعہدے سے ہٹا کر او ایس ڈی بنا دیا ہے اور ان دونوں افسران کو آئی جی آفس میں رپورٹ کرنے کو کہا گیا ہے۔

اس سےقبل منگل کی صبح لاہور کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے صوبہ پنجاب کے ضلع قصور میں بچوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کے مقدمے میں گرفتار پانچ ملزمان کو چار ہفتے کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دے دیا تھا۔

عدالت میں اس مقدمے کو فوجی عدالت میں بھیجنے سے متعلق درخواست بھی دائر کی گئی ہے جس پر انسداد دہشت گردی کی عدالت نے حکومت کو نوٹس جاری کیا ہے۔

کم عمر بچوں سے جنسی زیادتی کے یہ مبینہ واقعات قصور کے گاؤں حسین خان والا میں پیش آئے ہیں۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق کئی برس سے جاری ان واقعات میں 280 سے زیادہ بچوں کو جنسی زیادتی اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا تاہم حکام کا کہنا ہے کہ <link type="page"><caption> بچوں سے جنسی زیادتی کے واقعات کی 30 ویڈیوز اب تک ان کے پاس آئی ہیں۔</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/08/150810_shekhupura_kasur_chiled_abuse_police_zh" platform="highweb"/></link>

اس معاملے میں اب تک پولیس نے سات مختلف مقدمات درج کیے ہیں اور 13 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

منگل کو اس مقدمے میں انسداد دہشت گردی کی دفعات شامل کیے جانے کے بعد پانچ ملزمان یحیٰی، وسیم ، تنزیل الرحمن، عتیق الرحمن اور عبیدالرحمن کو لاہور کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا گیا۔

اِن پانچوں ملزمان کی عبوری ضمانت میں توسیع کی درخواست پیر کو مسترد کر دی گئی تھی جس کے بعد پولیس نے اِنہیں حراست میں لے لیا تھا۔

کم عمر بچوں سے جنسی زیادتی کے یہ مبینہ واقعات قصور کے گاؤں حسین خان والا میں پیش آئے ہیں
،تصویر کا کیپشنکم عمر بچوں سے جنسی زیادتی کے یہ مبینہ واقعات قصور کے گاؤں حسین خان والا میں پیش آئے ہیں

سماعت کے دوران سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان مقدمات میں ملزمان سے نہ صرف اسلحہ اور متاثرہ بچوں کے ورثا سے بلیک میل کرکے حاصل کی گئی رقم بلکہ وہ ویڈیو کلپ بھی برآمد کیے ہیں جو اُنھوں نے بچوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کے دوران بنائے تھے۔

سرکاری وکیل نے دعویٰ کیا کہ ان ملزمان نے ویڈیو کلپ بیرون ممالک فروخت کرکے کرڑوں روپے کمائے ہیں تاہم اُنھوں نے اس کی مّزید تفصیلات عدالت کو نہیں بتائیں۔

سرکاری وکیل کا موقف تھا کہ گرفتار ہونے والے ملزمان میں ایک محکمہ صحت کا ملازم بھی ہے جو نشہ اور ادویات بچوں کو پلاتا تھا جس کے بعد اُنھیں جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔

دلائل سننے کے بعد جج نے ان پانچ ملزمان کو 28 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دے دیا۔ مقدمے کی تفتیش کرنے والی پولیس کی ٹیم نے عدالت سے ملزمان کا 30 روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کی استدعا کی تھی۔

ان مقدمات میں گرفتار ہونے والے دیگر آٹھ ملزمان بھی پولیس کی تحویل میں ہیں اور ان کا جسمانی ریمانڈ مقامی عدالت سے حاصل کیا گیا تھا جس کے خاتمے کے بعد اُنھیں بھی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

منگل کو ہی لاہور ہائی کورٹ نے قصور میں بچوں کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی کا مقدمہ انسداد دہشت گردی کی عدالت میں منتقل کرنے کے لیے درخواست بھی دائر کی گئی اور پولیس کی جانب سے مقدمے میں انسدادِ دہشت گردی کی دفعات شامل کیے جانے کے بعد عدالت کو اس بارے میں مطلع کر دیا گیا ہے۔

ابتدائی طور پر 280 بچوں سے زیادتی کی اطلاعات سامنے آئی تھیں تاہم کمشنر لاہور کے مطابق اب تک صرف 60 سے زائد ویڈیوز کا ریکارڈ حاصل ہوا ہے

،تصویر کا ذریعہepa

،تصویر کا کیپشنابتدائی طور پر 280 بچوں سے زیادتی کی اطلاعات سامنے آئی تھیں تاہم کمشنر لاہور کے مطابق اب تک صرف 60 سے زائد ویڈیوز کا ریکارڈ حاصل ہوا ہے

ادھر حسین خان والا کی مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ منگل کو بچوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کے واقعات کے سلسلے میں مزید چار افراد نے تھانے میں درخواست دی ہے۔

ان درخواست گزاروں میں حافظ محمد یار، محمد اشرف، محمد طاہر اور محمد ندیم شامل ہیں اور ان درخواستوں میں جن سات ملزمان کو نامزد کیا گیا ہے وہ پہلے ہی پولیس کی تحویل میں ہیں۔

مقامی پولیس کے مطابق متعدد متاثرہ افراد ان واقعات کے بارے میں مزید درخواستیں دینے کو بھی تیار ہیں۔

حسین والا کے رہائشی عبدالرحمٰن کے مطابق پولیس پیر کوز بھی مقامی مساجد میں اعلان کرواتی رہی ہے کہ اگر جنسی تشدد سے کوئی شخص متاثر ہوا ہے تو اس بارے میں مقامی پولیس سٹیشن میں درخواست دی جائے۔

بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات کی تحقیقات کے لیے پنجاب حکومت نے پیر کو ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی ہے جو دو ہفتوں میں تحقیقات مکمل کرنے کے بعد اپنی رپورٹ عدالت میں جمع کروائے گی۔

پاکستان کے سرکاری ٹی وی کا کہنا ہے کہ یہ ٹیم ڈی آئی جی ابوبکر خدا بخش کی سربراہی میں تشکیل دی گئی ہے جس میں خفیہ اداروں کے دو اہلکار بھی شامل ہوں گے۔

ان کے علاوہ مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی میں ایس پی خالد بشیر چیمہ، ڈی ایس پی لیاقت علی بھی شامل ہیں۔