’400 بلوچ عسکریت پسندوں نے ہتھیار ڈال دیے‘

،تصویر کا ذریعہGetty

    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں جشنِ آزادی کے موقع پر منعقد کی گئی خصوصی تقریب میں 400 بلوچ عسکریت پسندوں کی جانب سے ہتھیار ڈالے دیے گئے ہیں۔

دوسری جانب بلوچ آبادی پر مشتمل قلات اور مکران ڈویژن کے متعدد علاقوں میں شٹرڈاؤن ہڑتال رہی۔

جمعے کو یہ تقریب انتہائی سخت سیکورٹی میں کوئٹہ کی پولیس لائن میں منعقد ہوئی جس میں حکام کے مطابق 400 عسکریت پسندوں نے اپنے ہتھیار ان کے حوالے کیے۔

اس موقع پر ہتھیار ڈالنے والے ہر فرد کو تقریب میں موجود بچوں نے پاکستان کا قومی پرچم پکڑانے کے علاوہ ایک سرخ پھول بھی پیش کیا۔

ان افراد کی جانب سے حکام کے حوالے کیے جانے والے اسلحے میں کلاشنکوف، رائفلیں اور راکٹ لانچر وغیرہ شامل تھے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹینینٹ جنرل ناصر خان جنجوعہ نے ہتھیار ڈالنے والے افراد کے جذبے کو سراہا۔

ان کے نام اپنے پیغام میں انھوں نے کہا کہ ’وہ نیچھے نہ دیکھیں بلکہ اپنی سر کو فخر سے بلند کریں کیونکہ انھوں نے یہ ہتھیار ان کے سامنے نہیں بلکہ اپنی نیک سوچ کے سامنے ڈالا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’آج سے دشمنی ختم، بھائی بندی اور دوستی شروع ہوگئی ہے‘

کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹینینٹ جنرل ناصر خان جنجوعہ نے ہتھیار ڈالنے والے افراد سے کہا کہ ’وہ اپنے دوسرے ساتھیوں کو سمجھائیں کہ وہ ان لوگوں کے لیے اپنی جانیں ضائع نہ کریں جو مغرب میں ہیں جن کی انا پرستی اور ضد ختم ہی نہیں ہورہی ہے۔‘

اس تقریب سے بلوچستان کے وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے خطاب کرتے ہوئے پر امن بلوچستان کی پالیسی کی منظوری دینے پر وزیر اعظم اور آرمی چیف کا شکریہ بھی ادا کیا۔

خیال رہے کہ پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے رواں ماہ کے آغاز میں ناراض بلوچوں کو قومی دھارے میں واپس لانے کے لیے ’پرامن بلوچستان‘ نامی منصوبے کی منظوری دے دی تھی۔

رواں سال جون میں ہی بلوچستان کے حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومت کے خلاف آزادی کی جنگ لڑنے والے بلوچستان لبریشن آرمی کے دو فراری کمانڈروں نے 57 ساتھیوں سمیت ہتھیار ڈال دیے ہیں۔

تاہم بی ایل ایف اور لشکر بلوچستان کے ترجمانوں نے اپنے بیانات میں کہا ہے کہ ہتھیار ڈالنے والے کمانڈروں سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

بلوچ علاقوں میں ہڑتال

بلوچستان کے کوئٹہ ڈویژن میں نوشکی شہر کے علاوہ بلوچ آبادی پر مشتمل قلات اور مکران ڈویژن کے متعدد علاقوں میں شٹرڈاؤن ہڑتال رہی۔

ہڑتال کی کال علحیدگی پسند بلوچ قوم پرست جماعتوں نے دی تھی اور ان علاقوں میں کاروباری مراکز بند رہے۔

دوسری جانب تشدد کے دو مختلف واقعات میں ایک سکیورٹی اہلکار ہلاک اور سات زخمی ہو گئے۔