’دو فراری بلوچ کمانڈروں سمیت 57 نے ہتھیار ڈال دیے‘

صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ ہتھیار ڈالنے والوں کو روزگار فراہم کیا جائے گا

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنصوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ ہتھیار ڈالنے والوں کو روزگار فراہم کیا جائے گا

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت کے خلاف آزادی کی جنگ لڑنے والے بلوچستان لبریشن آرمی کے دو فراری کمانڈروں نے 57 ساتھیوں سمیت ہتھیار ڈال دیے ہیں۔

اتوار کو بلوچستان کے ضلع خضدار میں ہتھیار ڈالنے والے کمانڈروں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سینیئر صوبائی وزیر ثنا اللہ زہری نے ان کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا۔

ثنا اللہ زہری کا کہنا تھا کہ آج ہمارے وہ نوجوان پہاڑوں سے اترے ہیں’جنھیں بھٹکا کر غلط طریقے سے آزادی کے نام پر پہاڑوں پر لے جایا گیا، اور اپنے لوگوں کو ان سے نقصان پہنچایا گیا۔‘

آزادی کی جنگ لڑنے والے بلوچ نوجوانوں کے نام اپنے پیغام میں صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ ’جتنے بھی ہمارے نوجوان بھٹکے ہوئے ہیں، پہاڑوں پر ہیں وہ واپس آجائیں ہم انھیں خوش آمدید کہیں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ہتھیار ڈالنے والوں کو وہی عزت ملے گی جو ہر پاکستانی شہری کو ملتی ہے تاہم اس کے لیے وفاداری شرط ہے۔

’آج آپ جو نوجوان آئے ہیں۔ آپ کو ہم وہی عزت دیں گے جو دوسرے عام شہریوں کو ملتی ہے۔ لیکن آپ کو ایک عہد کرنا ہوگا۔ کہ جس طرح ہم پاکستان کے ساتھ ہیں، اسی طرح آپ بھی پاکستان کے ساتھ وفادار رہیں گے۔‘

ثنا اللہ زہری نے حربیار مری اور براہمداخ بگٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’جو شہزادے باہر بیٹھے ہوئے ہیں لندن کی ٹھنڈی ہواؤوں میں بیھٹے ہوئے ہیں وہ نہ پاکستان کے خیر خواہ ہیں اور نہ ہی آپ کے خیر خواہ ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ انقلاب آپ اس وقت لا سکتے ہیں جب آپ کے ساتھ عوام ہوں لیکن ان کے پاس ایک فیصد عوام کی نمائیندگی نہیں ہے۔

اس موقع پر بلوچ لبریشن فرنٹ اور لشکرِ بلوچستان کا ساتھ چھوڑ کر صوبائی حکومت کے سامنے ہتھیار ڈالنے والے دونوں کمانڈروں نے میڈیا سے گفتگو بھی کی۔

ایک کمانڈر جنھوں نے اپنا نام عبید اللہ عرف ببرک بتایا کہ کہ وہ اور ان کے ساتھی سمجھتے تھے کہ ’جاوید مینگل کے لشکرِ بلوچستان میں شامل ہونے سے بلوچوں کی بہتری ہوگی۔ لیکن پانچ سال میں یہ احساس ہوا کہ یہ محض ایک دھوکا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ وہ آزادی کی جھوٹی جنگ سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہیں۔

دوسری جانب بی ایل ایف اور لشکر بلوچستان کے ترجمانوں نے اپنے بیانات میں کہا ہے کہ ہتھیار ڈالنے والے کمانڈروں سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔