13 نومبر سنہ 1839 کی یاد میں بلوچوں کا یومِ شہدا

- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
کراچی اور بلوچستان میں بلوچ تنظیمیوں نے 13 نومبر سنہ 1839 کی یاد میں جمعرات کو یوم شہدائے کے طور پر منایا ہے۔
اس حوالے سے بلوچستان کے کئی شہروں میں گذشتہ تین روز سے ہڑتال کی گئی تھی جبکہ کراچی میں بلوچ قومی یکجہتی کونسل اور شہدائے کمیٹی کی جانب سے ریلیاں منعقد کی گئیں۔
بلوچ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ 13 نومبر سنہ1839 کو انگریز بلوچستان پر قابض ہوئے تھے اور اس دوران والیِ ریاست اپنے ساتھیوں سمیت ہلاک ہوگئے اس لیے شہدائے بلوچستان کے لیے اس دن کا انتخاب کیا گیا۔
کراچی میں ریلیوں میں لاپتہ بلوچ نوجوانوں اور وہ کارکن جن کی لاشیں مل چکی ہیں کے عزیز و اقارب نے بھی شرکت کی۔ ان میں ڈاکٹر دین محمد بلوچ کی بیٹی سمی بلوچ بھی شریک تھیں۔
انھوں نے بتایا کہ 28 جون سنہ 2009 کو خضدار سے اغوا ہوئے۔ اس دن سے لے کر انھوں نے کئی احتجاج کیے، ماماقدیر کے ساتھ بھوک ہڑتال پر بیٹھے، کوئٹہ سے کراچی اور اسلام آباد تک مشکلات اور تکالیف کے باوجود لانگ مارچ کیا لیکن اس پر امن جدوجہد کا ابھی تک کوئی نتیجہ نہیں نکلا، انھیں تاحال معلوم نہیں ہے کہ ان کے والد کہاں ہیں اور کس حال میں ہیں اور جب تک یہ معلوم نہیں ہوتا وہ ایسے احتجاجوں میں شریک ہوتی رہیں گی۔

ریلی میں دیگر نوجوانوں کے ساتھ لیاری سے سعیدہ سربازی نے بھی شرکت کی۔ ان کے بھائی صحافی عبدالرزاق سربازی پہلے لاپتہ ہوئے اور بعد میں ان کی لاش ملی۔
سعیدہ سربازی کے مطابق بھائی کی ہلاکت کے دو ماہ دس دن کے بعد ان کے نوجوان بیٹے کو ہلاک کیا گیا۔ وہ اس بارے میں کوئی فیصلہ صادر نہیں کرسکتے لیکن جس طرح بھائی کی لاش ملی، اسی طرح بیٹے کی بھی لاش ملی تھی۔’جو کہتے ہیں کہ بول کے لب آزاد ہیں تیرے، ہمارے لب ابھی تک آزاد نہیں ہیں۔‘
بیگ محمد پرانے سیاسی کارکن ہیں ان کے بیٹے اور بی این ایم کے رکن محبوب واڈیلا 10 اپریل سنہ 2010 کو یوسف گوٹھ کراچی سے ملازمت کے لیے نکلے تھے اور دس ماہ بعد اوڑماڑہ کے قریب سے ان کی لاش ملی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بیگ محمد کے مطابق گمشدگی کے بعد انھوں نے صدر پاکستان، چیف جسٹس سپریم کورٹ کو درخواستیں کیں، عدالت نے سماعت بھی کی لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا اور دس ماہ بعد بیٹے کی لاش برآمد ہوئی۔ بقول ان کے بلوچستان کے حالات بہتر ہوتے ہوئے نظر نہیں آتے کیونکہ وہ طاقت کے زور پر اس کو حل کرنے کی خواہشمند ہیں جو ممکن نہیں ہے۔

بلوچستان سے کارکنوں کی گمشدگی اور مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی کے بعد گذشتہ چند سالوں سے یہ سلسلہ کراچی تک پہنچا۔ بلوچ یکجہتی کونسل کے رہنما وہاب بلوچ کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی حکومت کے بعد آپریشن میں تیزی آئی ہے وہ سمجھتے ہیں کہ شاید ان کو بلوچ تحریک کو کچلنے کا ٹاسک دیا گیا، اسی لیے مشکے، تمپ، قلات، ڈیرہ بگٹی ، گومازئی سمیت کئی علاقوں میں آپریشن کیےگئے۔
وہاب بلوچ کے مطابق رواں سال خضدار سے صرف ایک قبر سے 169 لاشیں ملی تھیں جو وہاں کے ڈی سی نے خود بتائیں لیکن بعد میں دباؤ کے ذریعے بیان بدل دیا، کئی کی شناخت بھی نہیں ہوسکی۔
ریلیوں کے شرکا نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ بلوچستان کے سماج کو داغ دار کرنے کے لیے وہاں فرقہ پرستی کو ہوا دی جا رہی ہے تاکہ قدیم رواداری کو نقصان پہنچا کر بلوچ اتحاد اور یکجہتی کو کمزور کیا جاسکے۔







