لسبیلہ میں اغوا کے بعد آٹھ مزدوروں کا قتل

بلوچستان میں ایک عرصے سے بم دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات رونما ہوتے رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنبلوچستان میں ایک عرصے سے بم دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات رونما ہوتے رہے ہیں
    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

بلوچستان کے صنعتی علاقے حب میں نامعلوم مسلح افراد نے آٹھ مزدوروں کو اغوا کرنے کے بعد گولی مار کر ہلاک اور ایک شخص کو زخمی کر دیا۔

ہلاک کیے جانے سے قبل ان مزدوروں کو اغوا کیا گیا تھا۔

ان مزدوروں کی لاشیں اتوار کو برآمد کی گئیں۔

لسبیلہ پولیس کے سربراہ بشیر احمد بروہی نے فون پر اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ مزدور حب کے علاقے ساکران میں ایک پولٹری فارم پر کام کر رہے تھے۔

نامعلوم مسلح افراد گذشتہ روز اس پولٹری فارم پر آئے تھے اور وہاں کام کرنے والے مزدوروں کو اغوا کر لیا تھا۔

مسلح افراد نےگذشتہ شب نو مزودوروں پر فائرنگ کی جن میں آٹھ مزدور ہلاک جبکہ ایک زخمی ہو گیا۔

ان مزدودوں کا تعلق صوبہ پنجاب سے بتایا جاتاہے۔

گذشتہ دنوں بلوچستان میں لاپتہ افراد کے لیے مظاہرے کیے گئے

،تصویر کا ذریعہBaluchSarmachar

،تصویر کا کیپشنگذشتہ دنوں بلوچستان میں لاپتہ افراد کے لیے مظاہرے کیے گئے

وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر مالک بلوچ نے اس واقعے کی مذمت کی ہے۔

انھوں نے حب میں پیش آنے والے اس واقعے کا سختی سے نوٹس لے کر ملوث افراد کو گرفتار کرنے کا حکم دیا ہے۔

حب بلوچستان کا کراچی سے متصل واحد بڑا صنعتی شہر ہے۔

حب کا شمار بلوچستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جہاں امن و امان کی صورتحال خراب ہے۔

اس سے پہلے بھی یہاں بم دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات رونما ہوتے رہے ہیں۔

حب اور اس کے گردونواح کے علاقوں سے بلوچستان کے مقامی لوگوں کی بھی بڑی تعداد میں لاشیں برآمد ہوتی رہی ہیں۔