کوئٹہ: ہلاک شدگان کی تدفین، ہزارہ ٹاؤن میں ہڑتال

کوئٹہ میں شیعہ ہزارہ فرقے کو متعدد بار شدت پسندی کے واقعات میں نشانہ بنایا جا چکا ہے جس کے خلاف احتجاج اور صوبے میں گورنر راج بھی نافذ ہو چکا ہے( فائل فوٹو)

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنکوئٹہ میں شیعہ ہزارہ فرقے کو متعدد بار شدت پسندی کے واقعات میں نشانہ بنایا جا چکا ہے جس کے خلاف احتجاج اور صوبے میں گورنر راج بھی نافذ ہو چکا ہے( فائل فوٹو)
    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں سنیچر کو ایک خودکش حملے میں ہلاک ہونے والے چھ افراد کی تدفین کر دی گئی ہے جبکہ اس واقعے کے خلاف ہزارہ ٹاؤن میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی ہے۔

شیعہ تنظیم مجلس وحدتِ مسلمین نے ہلاکتوں پر تین روزہ سوگ کا اعلان کر رکھا ہے۔

اتوار کو ہزارہ ٹاؤن کے مقامی قبرستان میں ہلاک شدگان کی آخری رسومات کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔

اس موقع پر علاقے میں تمام بازار اور مارکیٹیں بند رہے تاہم شہر کے دیگر علاقوں میں صورتحال معمول کے مطابق رہی۔

سنیچر کی شام ہونے والے خودکش حملے میں شیعہ اکثریتی علاقے ہزارہ ٹاؤن کو نشانہ بنایا گیا جس میں ابتدائی طور پر پانچ افراد کی ہلاکت اور 15 کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی تھی۔

دھماکے میں زخمی ہونے والوں میں متعدد بچے بھی شامل ہیں

،تصویر کا ذریعہepa

،تصویر کا کیپشندھماکے میں زخمی ہونے والوں میں متعدد بچے بھی شامل ہیں

تاہم زخمیوں میں شامل ایک بچے نے بعدازاں ہسپتال میں دم توڑ دیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ یہ دھماکہ علی آباد کے علاقے میں لگائے گئے عید بازار میں اس وقت ہوا جب لوگوں کی بڑی تعداد عیدالاضحی کی مناسبت سے خریداری میں مصروف تھی۔

جائے وقوع پر موجود پولیس حکام کے مطابق ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں بچے اور عورتیں بھی شامل ہیں۔

تاحال کسی تنظیم نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

خیال رہے کہ ہزارہ ٹاؤن کا علاقہ ماضی میں بھی شدت پسندی کا نشانہ بنتا رہا ہے اور علی آباد میں ہی جنوری سنہ 2012 میں ایک خودکش حملے میں درجنوں افراد مارے گئے تھے۔