بلوچستان سے مزید دو افراد کی تشدد زدہ لاشیں برآمد

۔۔۔بلوچستان میں لاپتہ افراد اور تشدد زدہ لاشیں ملنے کے واقعات کے خلاف متعدد بار احتجاج ہو چکے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن۔۔۔بلوچستان میں لاپتہ افراد اور تشدد زدہ لاشیں ملنے کے واقعات کے خلاف متعدد بار احتجاج ہو چکے ہیں
    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دو مختلف علاقوں سے مزید دو افراد کی تشدد زدہ لاشیں ملنے کے علاوہ تین بوری بند انسانی ڈھانچے ملے ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق جمعرات کو صوبے کے ایران کی سرحد سے متصل ضلع پنجگور سے ایک نامعلوم شخص کی مسخ شدہ لاش اور تین بوری بند انسانی ڈھانچے ملے ہیں۔

ان میں سے ایک شخص کی لاش اور تین انسانی ڈھانچے ایران سے متصل ضلع پنجگور سے ملے۔ پنجگور میں پولیس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ جمعرات کو لاش اور ڈھانچے دو مختلف علاقوں سے ملے۔

پولیس حکام کے مطابق لاش زیادہ پرانی نہیں ہے اور اس پر گولیوں کے نشانات پائے گئے ہیں جبکہ انسانی باقیات پنجگور کے علاقے وشبود فقیر سے برآمد ہوئی ہیں۔

دو دن پہلے بھی تشدد زدہ لاشیں برآمد ہوئی تھیں

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشندو دن پہلے بھی تشدد زدہ لاشیں برآمد ہوئی تھیں

حکام کے مطابق بوری میں بند انسانی ڈھانچوں کو شناخت کے لیے پنجگور ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

ہسپتال کے ایک اہلکار کے مطابق انسانی ڈھانچے ایک سال پرانے ہو سکتے ہیں۔

دوسری جانب چاغی کے علاقے سے ایک نامعلوم شخص کی تشدد زدہ لاش ملی ہے اور ہلاک ہونے والے شخص کی عمر 28 سال کے قریب بتائی جا رہی ہے۔ دو روز قبل بھی پنجگور سے متصل بلوچستان کے ضلع کیچ سے بھی دو افراد کی تشدد زدہ لاشیں ملی تھیں۔

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور سے امن و امان کی صورتحال زیادہ خراب ہو گئی تھی۔

صوبے میں اقلیتوں پر حملوں کے علاوہ شدت پسندی کے واقعات کے علاوہ لاپتہ افراد اور مسخ شدہ لاشیں ملنے کا سلسلہ جاری ہے۔

لاپتہ افراد اور مسخ شدہ لاشیں ملنے کے واقعات کے خلاف متعدد بار احتجاجی مظاہرے ہو چکے ہیں اور لاپتہ افراد کے اہلخانہ ان واقعات میں سکیورٹی ایجسنز کے ملوث ہونے کا الزام عائد کرتے ہیں جبکہ حکام اس کی تردید کرتے آئے ہیں۔