صوابی اور ڈی آئی خان میں حملے، ایس پی سمیت دو اہلکار ہلاک

صوابی میں پولیس نے جائے وقوعہ اور آس پاس کے علاقوں میں بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن کا آغاز کردیا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنصوابی میں پولیس نے جائے وقوعہ اور آس پاس کے علاقوں میں بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن کا آغاز کردیا ہے
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے اضلاع صوابی اور ڈیرہ اسماعیل خان میں حکام کا کہنا ہے کہ پولیس پر ہونے والے دو حملوں میں ایلیٹ فورس کے ایس پی سمیت دو اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔

پولیس کے مطابق پہلا واقعہ ضلع صوابی کے گاؤں سلیم خان میں سنیچر کی صبح اس وقت پیش آیا جب موٹر سائیکل پر سوار مسلح افراد کی جانب سے ایلیٹ فورس کے ایس پی پر اندھادھند فائرنگ کی گئی جس سے وہ ہلاک ہوگئے۔

صوابی پولیس کے ترجمان لیاقت علی نے بی بی سی کو بتایا کہ ایلیٹ فورس کے ایس پی خیرالخطیب صبح کے وقت مسجد میں نماز ادا کر کےگھر جارہے تھے کہ اس دوران ان پر حملہ کیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ پولیس افسر بنوں میں تعینات تھے اور وہ عید منانے کےلیے اپنے آبائی گاؤں صوابی آئے تھے۔

ان کے مطابق واقعے کے بعد پولیس نے جائے وقوعہ اور آس پاس کے علاقوں میں بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن کا آغاز کردیا ہے اور بعض مشتبہ افراد کو حراست میں بھی لیا ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والے پولیس افسر تین سال پہلے فوج سے ریٹائرڈ ہوئے تھے جس کے بعد انھیں ایلیٹ فورس میں تعینات کیا گیا تھا۔

یاد رہے کے صوابی میں اس سے پہلے بھی پولیس اہلکاروں پر متعدد مرتبہ حملے کیے گئے ہیں جس میں کئی اہلکار مارے جاچکے ہیں۔

 تحصیل درابن میں واقع فوج اور ایف سی کے کیمپ پر شدت پسندوں کی طرف سے حملےمیں ایلیٹ فورس کا ایک اہلکار ہلاک ہوا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن تحصیل درابن میں واقع فوج اور ایف سی کے کیمپ پر شدت پسندوں کی طرف سے حملےمیں ایلیٹ فورس کا ایک اہلکار ہلاک ہوا

ادھر دوسری طرف خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلعے ڈیرہ اسماعیل خان میں سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے میں ایلیٹ فورس کا ایک اہلکار ہلاک ہوگیا ہے جبکہ جوابی حملے میں دو حملہ آواروں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔

پولیس اہلکاروں کے مطابق جمعہ اور سنیچر کی درمیانی شب ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل درابن میں واقع فوج اور ایف سی کے کیمپ پر شدت پسندوں کی طرف سے حملہ کیا گیا جس میں ایلیٹ فورس کا ایک اہلکار ہلاک ہوگیا۔

انھوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کی طرف سے بھی جوابی کاروائی کی گئی اور اس دوان دو حملہ آوار مارے گئے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ رات دیر تک فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا۔

ان حملوں کی ذمہ داری کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے قبل کی ہے۔ تاہم آزاد ذرائع سے اس کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔