ڈیرہ اسماعیل خان میں شیعہ رہنما کی ٹارگٹ کلنگ

ڈیرہ اسماعیل خان میں اس سے پہلے بھی فرقہ وارانہ تشدد کے متعدد واقعات پیش آچکے ہیں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنڈیرہ اسماعیل خان میں اس سے پہلے بھی فرقہ وارانہ تشدد کے متعدد واقعات پیش آچکے ہیں
    • مصنف, عزیزاللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے ایک مقامی شیعہ رہنما کو ہلاک کر دیا ہے ۔

یہ واقعہ رات گئے ڈیرہ اسماعیل خان سے 40 کلومیٹر دور پرووآ گاؤں کے قریب پیش آیا۔

پولیس کے مطابق مختیار حسین نامی رہنما اپنے گھر کے باہر سڑک پر پیدل جا رہے تھے کہ موٹر سائیکل پر سوار افراد نے ان پر فائرنگ کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔

ڈیرہ اسماعیل خان کے ضلعی پولیس افسر صادق حسین نے بتایا کہ یہ ٹارگٹ کلنگ کا واقعہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مختیار حسین اہلِ تشیع کی ایک مقامی تنظیم صدائے حسین کے رہنما تھے۔

پولیس نے اس واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

ڈیرہ اسماعیل خان میں اس سے پہلے بھی فرقہ وارانہ تشدد کے متعدد واقعات پیش آچکے ہیں۔

ڈی پی او صادق حسین کا کہنا ہے کہ علاقے میں دیسی ساختی بموں کے دھماکوں کا سلسلہ تو رک گیا ہے لیکن کبھی کبھار ٹارگٹ کلنگ کے واقعات پیش آ جاتے ہیں جن کی روک تھام کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

ٹارگٹ کلنگ کے واقعات صوبہ خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں پیش آتے رہے ہیں لیکن حکام کا کہنا ہے کہ ماضی کی نسبت ان میں بڑی حد تک کمی واقع ہوئی ہے۔

تاہم پشاور میں شیعہ رہنما صاحبزادہ مظفر کا کہنا ہے کہ اس سال اب تک صرف پشاور میں تشدد کے واقعات میں نو شیعہ افراد کو مارا گیا ہے جن میں دو بھائی بھی شامل ہیں۔