کراچی میں بول ٹی وی کے اعلیٰ عہدیدار ہلاک

ایگزیکٹ کمپنی کے خلاف کارروائی کے باعث کمپنی کے نیوز چینل بول کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے
،تصویر کا کیپشنایگزیکٹ کمپنی کے خلاف کارروائی کے باعث کمپنی کے نیوز چینل بول کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستان کے شہر کراچی میں حکام کے مطابق نجی ٹی وی چینل بول کے ہیومن ریسورس شعبے کے سربراہ نعمان علی فائرنگ کے ایک واقعے میں ہلاک ہوگئے ہیں۔

یہ واقعہ نارتھ ناظم آباد کے علاقے حیدری میں بدھ کی شب پیش آیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ کار میں سوار علی نعمان اپنے دفتر سے گھر جا رہے تھے کہ ان پر فائرنگ کی گئی جس میں وہ زخمی ہوگئے۔

پولیس کے مطابق نعمان علی کو سر میں ایک گولی لگی جو آرپار ہوگئی، انھیں پہلے عباسی شہید ہپستال اور اس کے بعد آغا خان ہپستال منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لا کر ہلاک ہوگئے۔

35 سالہ متقول نعمان علی کا تعلق اسماعیلی برادری سے تھا وہ شادی شدہ اور دو بچوں کے والد تھے۔ ایس ایس پی وسطی مقدس حیدر کا کہنا ہے کہ بظاہر تو واقعہ ڈکیتی کی کوشش کے دوران مزاحمت کا نظر آتا ہے لیکن حتمی طور پر کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔

متقول 35 سالہ نعمان علی کا تعلق اسماعیلی برادری سے تھا وہ شادی شدہ اور دو بچوں کے والد تھے
،تصویر کا کیپشنمتقول 35 سالہ نعمان علی کا تعلق اسماعیلی برادری سے تھا وہ شادی شدہ اور دو بچوں کے والد تھے

نعمان علی کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ موبائل فون اور بٹوہ محفوظ رہے ہیں جبکہ گاڑی کا کوئی شیشہ بھی نہیں ٹوٹا جس کے باعث ڈکیتی کا معاملہ نظر نہیں آتا۔

نعمان علی گذشتہ تین برس سے ایگزیکٹ گروپ سے منسلک تھے، پچھلے دنوں ہیومن ریسورس شعبے کے سربراہ علی غفار کی گرفتاری کے بعد انھیں یہ ذمہ داریاں سونپی گئیں تھیں۔

یاد رہے کہنیویارک ٹائمز نے اپنی ایک خبر میں پاکستان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی کمپنی ایگزیکٹ پرجعلی اسناد جاری کرنے کا الزام عائد کیا تھا، جس معاملے کے ایف آئی اے تحقیقات کر رہی ہے۔ کمپنی کے سربراہ شعیب شیخ سمیت ایک درجن کے قریب ڈائریکٹر اور ملازم گرفتار ہیں۔

ایگزیکٹ کمپنی کے خلاف کارروائی کے باعث کمپنی کے نیوز چینل بول کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، کمپنی کے اکثر بینک کھاتوں کو بھی عدالتی حکم پر سیل کردیا گیا ہے اور نامور صحافی کامران خان، افتخار احمد، نصرت جاوید، عاصمہ شیرازی اور اظہر عباس مستعفی ہو چکے ہیں۔

یاد رہے کہ رواں سال مئی میں اسماعیلی برداری کی بس پر حملہ کیا گیا تھا، جس میں 45 سے زائد مسافر ہلاک ہوگئے تھے۔گذشتہ ہفتے ہیں 5 زخمیوں نے ملزمان کی شناخت کی تھی۔