کامران خان کا ’بول سے علیحدہ ہونے‘ کا اعلان

- مصنف, طاہر عمران
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستانی چینل بول کے صدر اور ایڈیٹر انچیف کامران خان نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں اعلان کیا ہے کہ ’ایگزیکٹ کے خلاف تحقیقات کے نتیجے میں انہوں نے فوری طور پر بول سے علیحدہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔‘
اپنی ٹویٹ میں کامران خان نے لکھا کہ ’ایگزیکٹ کے خلاف الزامات ابھی تک عدالت میں ثابت نہیں ہوئے مگر میرا ضمیر مجھے اس کام کو جاری رکھنے کی اجازت نہیں دیتا ہے۔ میں نے اس لیے فیصلہ کیا ہے کہ میں اپنے آپ کو بول سے فوری علیحدہ کر لوں۔‘
انہوں نے اس اعلان سےتقریباً پانچ گھنٹے قبل ٹویٹ میں لکھا کہ ’میرے سمیت قابلِ احترام سینئیر صحافی جو بول سے منسلک ہیں اس ساری صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں اور اس بارے میں جلد فیصلہ کریں گے۔ سچ کا بول بالا ہونا چاہیے۔‘
اس کے علاوہ بول کے نیوز چینل صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر اظہر عباس نے کچھ دیر قبل اپنی ایک ٹویٹ کے ذریعے اپنے استعفے کا اعلان کرتے ہوئے لکھا ’میں نے بول سے استعفیٰ سے دیا ہے اپنے ایڈیٹرز اور سٹاف سے بات کرنے کے بعد۔ میں نے صحافیوں کی ایک بہترین ٹیم اکٹھی کی تھی۔ ان سب کے لیے بہتری کی تمنا۔‘
اس سے قبل کامران خان، اظہر عباس اور کئی دوسرے صحافیوں نے جو بول سے وابستہ ہوئے تھے ایک ہی ٹویٹ کی تھی جس میں انہوں نے لکھا تھا کہ ’ہم نے بول کو سچ کا بول بالا کرنے کے لیے قائم کیا تھا نہ کہ سچ اور حقائق کو چھپانے کے لیے اور ہم اس چھپانے والے کام میں ملوث نہیں ہیں۔ بے شک اس کے ہماری ذات پر کوئی بھی اثرات ہوں اور اس کی کوئی بھی ذاتی قیمت ادا کرنی پڑے۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter
یاد رہے کہ ان اعلانات سے کچھ ہی گھنٹے قبل وفاقی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے اپنی پریس کانفرنس میں اعلان کیا تھا کہ ایگزیکٹ کیس میں قانونی مدد کے لیے ایک سے دو روز میں امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی اور انٹرپول سے رابطہ کیا جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہTwitter
اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ حکومت آئندہ ایک سے دو روز میں قانونی معاونت کے لیے ایف بی آئی کو خط لکھے گی۔ جبکہ ایگزیکٹ کیس میں سامنے میں آنے والی یونیورسٹیوں کی تفصیلات کے حوالے سے انٹرپول سے رابطہ کیا جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہTwitter
گذشتہ ہفتے نیویارک ٹائمز نے اپنی ایک خبر میں پاکستان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی کمپنی ایگزیکٹ پر جعلی اسناد جاری کرنے کا الزام عائد کیا تھا، جس پر وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے ایف آئی اے کو تحقیقات کا حکم جاری کیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نیویارک ٹائمز کے پاکستان میں بیورو چیف ڈیکلن والش نے گذشتہ پیر کوایگزیکٹ کمپنی پر الزام لگایا تھا کہ وہ انٹرنیٹ پر امریکہ، کینیڈا، اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک میں کرنے والی جعلی ڈگریاں فروخت کر کے ایگزیکٹ لاکھوں ڈالر کما رہی ہے۔ خبر میں کمپنی کے سابق اہلکاروں اور متاثرین سے تفصیلی بات چیت کی گئی ہے۔







