پاکستان ایران گیس پائپ لائن منصوبے کی راہ ہموار

پاکستان میں قدرتی گیس کے بحران کے حل کے لیے اس گیس منصوبے کو بہت اہمیت دی جا رہی ہے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنپاکستان میں قدرتی گیس کے بحران کے حل کے لیے اس گیس منصوبے کو بہت اہمیت دی جا رہی ہے
    • مصنف, آصف فاروقی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

عالمی طاقتوں اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام پر معاہدے کے بعد پاکستان کے ایران سے گیس درآمد کرنے کے منصوبے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

قومی سلامتی اور خارجہ امور کے بارے میں وزیراعظم کے مشیر سرتاج عزیز کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام پر عالمی طاقتوں کے ساتھ معاہدے سے پاکستان اور ایران کے درمیان توانائی کے شعبے میں تعاون کا رستہ ہموار ہو جائے گا۔

ایک دن پہلے سوموار کو ایک پریس کانفرنس میں جب سرتاج عزیز سے ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان ممکنہ معاہدے کے بارے میں پوچھا گیا تو سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ توانائی کے حصول کے بہت سے معاہدے ایران پر عائد پابندیوں کی وجہ سے کھٹائی میں پڑے ہوئے ہیں۔

’ایران پر سے پابندیاں ہٹنے کی صورت میں پاک۔ایران گیس پائپ لائن منصوبے سمیت توانائی کے بہت سے معاہدوں پر عمل ممکن ہو سکے گا جو دونوں ملکوں کے لیے بہت اچھی خبر ہے۔‘

پاکستان نے ایران سے قدرتی گیس کے حصول کے لیے تین سال پہلے گیس پائپ لائن بچھانے کے کام کا آغاز کیا تھا لیکن ایران پر عائد عالمی اقتصادی پابندیوں کے باعث یہ کام زیادہ دن جاری نہیں رہ سکا تھا۔

پاکستان میں قدرتی گیس کے بحران کے حل کے لیے اس گیس منصوبے کو بہت اہمیت دی جا رہی ہے۔

اس منصوبے کے لیے دس برس قبل ہونے والے معاہدے میں ابتدائی طور پر بھارت بھی شامل تھا لیکن ایران پر عالمی پابندیوں کے باعث بھارت نے بعد میں اس منصوبے سے خود کو الگ کر لیا تھا۔

سرتاج عزیز نے کہا کہ پاکستان اور ایران اس منصوبے کو مکمل کرنے کے لیے بےتاب ہیں۔

’جیسے ہی عالمی اقتصادی پابندیاں ہٹتی ہیں، ہم اس منصوبے پر فوراً کام شروع کر دیں گے۔‘

’ پاکستان اور ایران اس منصوبے کو مکمل کرنے کے لیے بےتاب ہیں‘

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن’ پاکستان اور ایران اس منصوبے کو مکمل کرنے کے لیے بےتاب ہیں‘

سرتاج عزیز نے کہا کہ پڑوسی ملک ہونے کی وجہ سے ایران کے ساتھ تجارت کا بھی بہت امکان موجود ہے جو ایران پر پابندیوں کی وجہ سے مشکلات کا شکار تھی۔

ایران پر عائد عالمی پابندیوں کے باعث کسی بھی ایرانی کمپنی کے ساتھ لین دین غیر قانونی تصور ہوتا ہے اور ایسا کرنے والی متعدد بین الاقوامی تجارتی اداروں کو ماضی میں بھاری جرمانے بھی عائد کیے جاتے رہے ہیں۔

سرتاج عزیز نے کہا کہ ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان اس معاہدے کے خطے کی سیاسی صورت حال پر بھی مثبت اثرات پڑیں گے کیونکہ ایران عالمی برادری میں اور خاص طور پر ہمارے خطے میں ایک مقام حاصل کر لے گا۔

سرتاج عزیز نے کہا کہ ایران کی علاقائی اور عالمی سیاسیت اور معیشت میں شمولیت سے امت مسلمہ کو بھی فائدہ پہنچے گا اور خاص طور پر اسلامی معاشروں میں فرقہ واریت کے خاتمے میں اس کا اہم کردار ہو گا۔