’پاکستان، ایران گیس منصوبے پر عملدرآمد ممکن نہیں‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, ایوب ترین
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان میں پٹرولیم اور قدرتی وسائل کے وفاقی وزیر شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ایران پر عالمی پابندیوں کے باعث پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر اس وقت عملدرآمد ممکن نہیں ہے۔
یہ بات انھوں نے منگل کو سینیٹ کے اجلاس میں وقفۂ سوالات کے دوران سینیٹر سلیم ایچ مانڈی والا کی جانب سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہی۔
سینیٹر مانڈی والا نے پوچھا تھا کہ کیاحکومت کے زیرِ غور ایسی کوئی تجویز ہے جس کے تحت پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کوختم کر دیا جائے اور منصوبہ ختم ہونے سے قانونی طور پر پاکستان پر عائد کیے جانے والا جرمانہ کتنے ڈالرز پر مشتمل ہوگا؟
شاہد خاقان عباسی نے ایوان کو بتایا کہ ایران، پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے کو ترک کرنے کی کوئی تجویز زیرِغور نہیں ہے تاہم ایران پر بین الاقوامی پابندیوں کی وجہ سے یہ منصوبہ اس قابل نہیں کہ اس پر عملدرآمد کیا جائے۔
انھوں نے کہا کہ جہاں تک پاکستان پر جرمانے کی بات ہے تواس کو ختم کرنے کے لیے بات چیت، ثالثی کے علاوہ اور بہت سے اور طریقے موجود ہیں جس کےذریعے جرمانے کوختم کیا جاسکتا ہے۔
وفاقی وزیر نے ایوان کو بتایا کہ ایران نے جنوب فارس گیس فیلڈ سے 900 کلو میٹر پر مشتمل گیس پائپ لائن مکمل کیا ہے جبکہ پاکستان اس منصوبے کے ایک حصے کو مکمل کرنے کے قابل ہوا ہے اور دوسرے مرحلے میں زمین کے حصول کا کام شروع کیا جائےگا۔
مسلم لیگ نواز کے سینیٹر محمد رفیق نے پوچھا کہ اس منصوبے پر پیپلز پارٹی کی سابقہ حکومت میں دستخط ہوئے تھے اور اگر یہ منصوبہ قابل عمل نہیں تھا تو حکومت نے اس منصوبے پر دستخط کیوں کیے تھے؟
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اس وقت جو کچھ ہوا میں اس کی وضاحت نہیں کر سکتا لیکن دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے معاہدے کی موجودہ حکومت ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خیال رہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان گیس پائپ لائن کے لیے 7.6 ارب ڈالر کا معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت ایران کے جنوب میں فارس گیس فیلڈ کو بلوچستان اور پنجاب میں ملتان سے جوڑا جانا ہے۔
اس منصوبے کو ’امن پائپ لائن‘ کا نام دیا گیا ہے اور رواں برس مارچ میں پاکستان اور ایران کے صدور نے اس منصوبے کا باضابطہ افتتاح بھی کیا تھا۔







