خیبر میں فوجی آپریشن کتنا کامیاب رہا؟

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں فوج کی طرف سے شدت پسندوں کے خلاف شروع کیےگئے آپریشن خیبر ٹو کے خاتمے اور کامیابی کا اعلان تو کر دیا گیا ہے لیکن ابھی تک لوگوں کو علاقے تک آزادنہ رسائی نہیں دی گئی ہے جس سے بظاہر یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ سکیورٹی فورسز اپنے اہداف حاصل کرنے میں کس حد تک کامیاب رہی ہے۔
خیبر ایجنسی میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں کا آغاز 2007 اور 2008 میں کیا گیا تھا۔ تاہم ابتدا میں یہ کارروائیاں انتہائی غیر موثر رہیں۔
تاہم فوج نے گذشتہ سال اکتوبر میں خیبر ایجنسی میں خیبر ون کے نام سے ایک اور بڑے آپریشن کا آغاز کیا۔ ابتدائی طور پر اس آپریشن کا دائرہ صرف باڑہ سب ڈویژن کے علاقوں تک محدود رکھا گیا تاہم بعد میں دیگر علاقے بھی اس میں شامل کیےگئے۔ آپریشن کے آغاز ہی سے لگ رہا تھا کہ کارروائیاں موثر انداز میں کی جا رہی ہیں۔
یہ آپریشن جاری تھا کہ 16 دسمبر 2014 کو آرمی پبلک سکول پشاور پر طالبان کی طرف سے بڑا حملہ کیا گیا جس میں طلبا اور سکول کے دیگر عملے سمیت تقریباً ڈیڑھ سو کے قریب افراد ہلاک ہوئے۔اس واقعے نے پوری قوم کو جھنجوڑ کر رکھ دیا اور فوج پر بھی عسکریت پسندوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرنے کےلیے دباؤ بڑھنے لگا۔
آرمی پبلک سکول حملے کے بعد فوج کی طرف سے ملک بھر میں کارروائیوں میں تیزی لائی گئی جس کے تحت رواں سال فروری کے آخر میں سکیورٹی فورسز نے خیبر ایجنسی میں آپریشن خیبر ون کا دوسرا مرحلہ یعنی خیبر ٹو کا آغاز کردیا۔ یہ آپریشن دور افتادہ پاک افغان سرحدی علاقوں وادی تیراہ اور دیگر ان علاقوں میں کیا گیا جہاں پہلے سکیورٹی فورسز کی کوئی عمل داری نہیں تھی۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق اس آپریشن کے نتیجے میں کالعدم تنظیموں لشکر اسلام اور تحریک طالبان پاکستان کے جنگجوؤں کو علاقے سے نکال کر افغانستان کی جانب دھکیل دیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کارروائیوں کے دوران ان اہم مقامات پر بھی قبضہ کرلیا گیا ہے جہاں پہلے اکثر اوقات مشکل آنے کی صورت میں شدت پسند سرحد پار کر کے دوسرے علاقوں میں فرار ہوجایا کرتے تھے۔ تاہم اب بیشتر سرحدی مقامات پر فوج کو کنٹرول حاصل ہے اور وہاں حکومتی عمل داری بحال کی جا رہی ہے۔ آپریشن خیبر ٹو کے دوران پچاس کے قریب سکیورٹی اہلکار ہلاک اور سو سے زیادہ زخمی ہوئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

خیبر ایجنسی کے مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ اس میں شک نہیں کہ آپریشن خیبر ون اور ٹو کی وجہ سے بیشتر طالبان تنظیمیں علاقہ چھوڑ گئی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ زیادہ تر علاقے صاف کردیے گئے ہیں لیکن عام شہریوں کو ان مقامات کی جانب آزادانہ رسائی حاصل نہیں لہٰذا یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ سکیورٹی فورسز کس حد تک اپنے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہیں۔
ان کے مطابق اس آپریشن کی مکمل کامیابی کا اندازہ اس وقت لگایا جاسکے گا جب نقل مکانی کرنے والے تمام متاثرین واپس اپنے گھروں کو لوٹ جائیں اور اختیارات سول انتظامیہ کے سپرد کیے جائیں گے۔
خیبر ایجنسی میں کارروائیوں کی وجہ سے اب تک تقریباً پانچ سے لے کر سات لاکھ کے قریب افراد گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔ نقل کانی کرنے والے بیشتر افراد کا تعلق باڑہ اور وادی تیراہ کے علاقوں سے بتایا جاتا ہے جو بدستور نوشہرہ اور پشاور کے مختلف علاقوں میں پناہ گزین کمیپوں یا کرائے کے مکانات میں مقیم ہیں۔
تاہم حکومت نے حال ہی میں متاثرینِ خیبر ایجنسی کی واپسی کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ پہلے مرحلے میں باڑہ سب ڈویژن کے متاثرین کو واپس بھیجا جا رہا ہے اور اب تک کئی سو خاندان واپس اپنے علاقوں کو جا چکے ہیں۔ واپسی کے منصوبے کے مطابق دوسرے مرحلے میں تیراہ اور دیگر علاقوں کے متاثرین کو واپس بھیجا جائے گا۔
خیبر ایجنسی میں کامیاب کارروائیوں کی وجہ سے پشاور اور آس پاس کے علاقوں میں بھی امن عامہ کی صورتحال بہتر ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ پشاور میں بھتہ خوری کے واقعات میں کافی حد تک کمی کی اطلاعات ہیں۔







