افغان حکومت اور طالبان کے درمیان اسلام آباد میں مذاکرات ’کل سے‘

- مصنف, ہارون رشید
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان میں سفارتی اور طالبان ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان حکومت اور طالبان کے وفود اسلام آباد پہنچ گئے ہیں اور ان کے درمیان مذاکرات بدھ سے شروع ہونے کی توقع ہے۔
تاہم حکومت پاکستان نے باضابطہ طور پر ان مذاکرات کی نہ تصدیق کی ہے اور نہ ہی تردید۔
پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان قاضی خلیل اللہ سے جب بی بی سی نے ان مذاکرات کے بارے میں تفصیل جاننے کی کوشش کی تو ان کا کہنا تھا کہ وہ اس بارے میں معلوم کر کے آگاہ کرنے کی کوشش کریں گے۔
دوسری جانب ایک سینیئر فوجی اہلکار نے بی بی سی کو ’ایک یا دو روز‘ انتظار کرنے کی ہدایت دی۔
تاہم افغان طالبان ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی جانب سے ملا جلیل، فرہاد اللہ اور ملا عباس افغانستان اور قطر سے اسلام آباد آئے ہوئے ہیں۔ ان مذاکرات کو چین کے شہر ارومچی میں گذشتہ دنوں منعقد ہونے والے مذاکرات کا تسلسل یا دوسرا راؤنڈ قرار دیا جا رہا ہے۔
اسلام آباد میں سفارتی حلقوں کا کہنا تھا کہ پاکستان فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے اس سال فروری میں کابل کے دورے میں افغان حکام اور طالبان کے درمیان رابطوں کی یقین دہانی کروائی تھی۔ لیکن کافی تاخیر کے بعد چین میں گذشتہ دنوں یہ پہلا رابطہ ہوا تھا۔
وزارت خارجہ کے ترجمان قاضی جلیل اللہ نے پچھلے ہفتے میڈیا بریفنگ میں بھی کہا تھا کہ پاکستان افغانستان میں قیام امن اور مصالحت کے عمل میں مدد کر رہا ہے جو کہ افغانوں کی قیادت اور افغانوں کا اپنا عمل ہے۔
ملا جلیل طالبان کے سابق نائب وزیر خارجہ رہ چکے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ مذاکرات ایک ایسے وقت ہو رہے ہیں جب گذشتہ دنوں پاکستان اور افغانستان میں سرحدی کشیدگی اور قندہار میں ایک اہلکار کی حراست کے بعد تلخی میں اضافہ ہوا تھا۔ دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے سفیر طلب کر کے احتجاج کیا تھا۔
افغان طالبان نے تاہم گذشتہ دنوں ایک بیان میں یہ کہتے ہوئے اپنی تحریک کو ان رابطوں سے دور رکھنے کی کوشش کی تھی کہ اگر فریقین میں کوئی رابطے ہو رہے ہیں تو یہ ان کی ذاتی حیثیت میں ہوسکتے ہیں لیکن اسلامی تحریک کے نہیں۔
تجزیہ نگاروں کے بقول اس بیان کا مقصد طالبان کے اندر ان رابطوں سے کسی مخالفت کو روکنے کی کوشش ہو سکتی ہے۔







