خفیہ اداروں میں تعاون پر افغان حکومت منقسم؟

یہ واضح نہیں کہ عبداللہ عبداللہ کو معاہدے پر اعتراض ہے یا اس بابت اعتماد میں نہ لینے پر

،تصویر کا ذریعہGETTY

،تصویر کا کیپشنیہ واضح نہیں کہ عبداللہ عبداللہ کو معاہدے پر اعتراض ہے یا اس بابت اعتماد میں نہ لینے پر
    • مصنف, ہارون رشید
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

افغانستان میں قومی اتحاد کی حکومت کو پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے ساتھ خفیہ معلومات کے تبادلے و تربیت کے حالیہ مفاہمتی معاہدے نے بظاہر منقسم کر دیا ہے۔

افغانستان میں سکیورٹی کے اعلی ترین ادارے قومی سکیورٹی کونسل نے ایک بیان میں اپنے آپ کو اس معاہدے سے علیحدہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس معاہدے کی تیاری کی مشاورت میں نہ تو شامل تھی اور نہ ہی اس کے متن کو حتمی شکل دینے میں اس کا کوئی کردار تھا۔

اس سے قبل صدر ڈاکٹر اشرف غنی کے حکومت میں شراکت دار اور چیف ایگزیکٹو آفیسر عبداللہ عبداللہ کے حامی حلقوں کی جانب سے بھی اس سمجھوتے کو مسترد کرتے ہوئے اس پر نظر ثانی کا مطالبہ کیا ہے۔

اس تنازعے کو مزید تقویت افغانستان کی پارلیمان کے ایوان بالا یعنی لویہ جرگہ کے سپیکر فضل ہادی مسلم یار نے بھی ایک حالیہ بیان میں دیا جس میں وہ اس حد تک چلے گئے کہ اسلام آباد کے ساتھ یہ معاہدہ پاکستان کے آگے ہتھیار ڈالنے کے برابر ہے۔

ان سمیت کئی اراکین پارلیمان نے معاہدے کی تنسیخ پر زور دیا ہے۔ فضل ہادی نے افغان حکومت سے عوام کو اس بابت اعتماد میں لینے اور معاہدے کی تمام تفصیلات سے آگاہ کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

اس معاہدے کی مکمل تفصیل ابھی سامنے نہیں آئی ہیں اور نہ پاکستان میں اس پر کسی نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے اس سال 18 مئی کو حسب معمول ایک مختصر ٹویٹ میں<link type="page"><caption> پاکستان کی آئی ایس آئی اور افغانستان کی نیشنل ڈائریکٹریٹ آف سکیورٹی یا این ڈی ایس کے درمیان اس معاہدے کا اعلان</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2015/05/150518_afghan_mous_fz.shtml" platform="highweb"/></link> کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سمجھوتے کے تحت دونوں ممالک کی سیکیورٹی ایجنسیاں خفیہ معلومات کے تبادلے کے علاوہ اپنے اپنے علاقوں میں کارروائیوں میں تعاون اور رابطہ پیدا کریں گی۔

تاہم افغان این ڈی ایس کے ایک ترجمان نے کہا کہ اس کے تحت محض کسی ممکنہ دہشت گردی کے واقعے سے متعلق معلومات کا تبادلہ ہوگا اور اس میں سٹرٹیجک معلومات کا تبادلہ نہیں ہوگا۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس معاہدے کی وجہ سے گذشتہ برس ستمبر میں طویل مذاکرات کے بعد قائم ہونے والی افغان اتحادی حکومت میں دراڑیں ابھر کر سامنے آئی ہیں۔

کئی افغان صحافیوں کا کہنا ہے کہ عبداللہ عبداللہ کو بھی معاہدے کی بعض باتوں پر اعتماد میں نہ لینے کی شکایت ہے۔

اطلاعات ہیں کہ ڈاکٹر اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کے معاونین پس منظر میں مسئلے کو حل کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ عبداللہ عبداللہ کے ایک مشیر نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ”مسائل کے وضاحت کے ساتھ حل کے لیے کوششیں جاری ہیں۔”

ڈاکٹر اشرف غنی نے صدرات کا عہدے سنبھالنے کے بعد پاکستان سے متعلق کافی اہم نرمی دکھائی ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنڈاکٹر اشرف غنی نے صدرات کا عہدے سنبھالنے کے بعد پاکستان سے متعلق کافی اہم نرمی دکھائی ہے

اس وقت افغانستان کے میڈیا اور سیاست پر یہی موضوع چھایا ہوا ہے۔ نیوز ویک کے نامہ نگار سمیع یوسفزئی کہتے ہیں کہ بعض عناصر اس معاملے کو دوسرا رنگ دے رہے ہیں۔ ’مسلسل ایک ہفتے سے یہ گرم موضوع ہے۔ بہت زیاد تنقید ہو رہی ہے کہ کیونکر آئی ایس آئی کے ساتھ معلومات کا تبادلہ ہوگا۔ اس بارے میں خود افغان خفیہ ادارے میں واضح دراڑ پڑ چکی ہے۔‘

بعض افغانوں کا خیال ہے یہ تقسیم این ڈی ایس کے ان سابق اہلکاروں کی وجہ سے ہے جنہیں گذشتہ دنوں ادارے سے نکال دیا گیا تھا۔ پھر بعض لوگ اس کی پشت پر سابق افغان صدر حامد کرزئی کی سرگرمیوں کو بھی مشکوک نظر سے دیکھتے ہیں۔

پاکستان نے گزشتہ کچھ عرصے سے افغانستان میں پشتونوں کے علاوہ سابق شمالی اتحاد کے رہنماؤں سے بھی مراسم بڑھائے تھے تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ عبداللہ عبداللہ کو معاہدے پر اعتراض ہے یا اس بابت اعتماد میں نہ لینے پر۔

دوسری جانب ڈاکٹر اشرف غنی نے صدرات کا عہدے سنبھالنے کے بعد پاکستان سے متعلق کافی اہم نرمی دکھائی ہے۔

انھوں نے الزام تراشی ترک کرنے کے علاوہ افغان فوجیوں کی پاکستان میں تربیت جیسے متنازع فیصلے بھی تعلقات کی بہتری کی خاطر کیے۔ ان کے خیال میں طالبان کے مسئلے کے حل کے لیے اسلام آباد کا سیاسی و سکیورٹی تعاون انتہائی اہم ہے جبکہ ان کے مخالفین واضح طور پر اس رویے سے خوش نہیں۔

افغان صحافی عنایت کاکڑ کہتے ہیں کہ یہ تو ابھی باضابطہ معاہدہ نہیں بلکہ ایک یادداشت ہے۔’اس میں تو ابھی یہ بھی واضح نہیں کیا گیا ہے کہ آیا مشترکہ دشمن سے مراد کیا ہے۔ کیا یہ دشمن طالبان ہیں، ٹی ٹی پی ہے، بلوچ مزاحمت کار ہیں یا انڈیا ہے؟ سرکاری حلقوں میں اس پر ابھی بات ہونی ہے جس کے بعد ہی یہ مفاہمت معاہدے کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔‘

افغانستان میں اس معاہدے کے متنازع ہو جانے سے پاکستان کتنا ’خوفزدہ‘ ہے؟

اس بارے میں آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل جاوید اشرف قاضی کہتے ہیں کہ پاکستان کو ایسا کوئی خوف نہیں۔

’پہلی مرتبہ دونوں ایجنسیاں حریف کی بجائے حلیف بن رہی ہیں۔ اور یہ جب سے ڈاکٹر اشرف غنی آئے ہیں تعلقات میں بہتری آئی ہے۔ پہلے وہ انڈیا کے کافی قریب تھے لیکن اب بہتری کی امید کی جاسکتی ہے۔‘

پاکستان اور افغانستان کے یہ اختلافات ایک ایسے وقت سامنے آ رہے ہیں جب طالبان کی افغانستان بھر میں کارروائیوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے لیکن غالب خیال یہی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اس معاہدے کو سیاست کی نظر نہیں کرنا چاہیے۔