افغان خفیہ ادارے اور آئی ایس آئی کے درمیان معاہدہ

حال ہی میں پاکستان کے وزیر اعظم اور پاکستانی فوج کے سربراہ راحیل شریف نے کابل کا دورہ کیا تھا

،تصویر کا ذریعہArg

،تصویر کا کیپشنحال ہی میں پاکستان کے وزیر اعظم اور پاکستانی فوج کے سربراہ راحیل شریف نے کابل کا دورہ کیا تھا
    • مصنف, سید انور
    • عہدہ, بی بی سی، کابل

افغانستان کے خفیہ ادارے نیشنل ڈائریکٹریٹ آف سکیورٹی اور پاکستان کے خفیہ ادارے انٹر سروسز انٹیلی جنس ایجنسی کے درمیان دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ایک ’ایم او یو‘ یا مفاہمت کی یادداشت پر دستخط ہوئے ہیں۔

اس معاہدے کے تحت پاکستان اور افغانستان کی یہ خفیہ ایجنسیاں مشترکہ دشمن کے خلاف مشترکہ کارروائیاں کریں گی۔

افغان خفیہ ادارے این ڈی ایس کے ترجمان حسیب صدیقی نے کہا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان اس طرح کے معاہدے پر دستخط ہونا کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس نوعیت کے معاہدے پہلے بھی ہوتے رہے ہیں لیکن اس مرتبہ یہ معاہدہ دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کارروائیوں کے لیے ہوا ہے۔

حسیب صدیق نے یہ تسلیم کیا کہ ماضی میں ہونے والے معاہدوں پر عملدرآمد نہیں ہوسکا تاہم انھوں نے امید ظاہر کی کہ اس مرتبہ اس معاہدے یا یادداشت پر آئی ایس آئی کی طرف سے مخلصانہ طور پر عملدرآمد کیا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق اس معاہدے کے تحت مشترکہ دشمن کی نشاندہی کی جائے گی اور اس بات کا تعین میں کیا جائے گا کہ افغانستان کے امن کو کن عناصر سے خطرہ ہے۔

معاہدے میں تمام شدت پسند اور دہشت گردوں گروہوں کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔

ایم او یو پر دستخط کی خبر سامنے آنے کے بعد افغانستان کے ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر زبردست رد عمل سامنے آیا۔

بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ پاکستان کے ساتھ اس معاہدے کی ضرورت نہیں تھی۔

افغانستان میں سنجیدہ تجزیہ کاروں اور مبصرین نے افغان حکومت کے اس قدم کو خوش آئندہ اور مثبت قرار دیا۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ اس طرح کی مفاہمت سے کابل اور اسلام آباد کے تعلقات کو مزید بہتر کرنے میں بہت مدد ملے گی۔

افغانستان کا نیشنل ڈائریکٹریٹ آف سکیورٹی ماضی میں پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے طالبان اور حقانی نیٹ ورک سے مبینہ تعلقات پر کڑی تنقید کرتا رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہf