’خوراک نہیں ہوگی تو کالونی کا کیا کریں گے‘

    • مصنف, آصف فاروقی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان بھر کے زرعی سائنسدان اور زرعی تحقیق سے متعلق افسران نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں قائم قومی زرعی تحقیقاتی مرکز یا این اے آر سی کی جگہ رہائشی کالونی بنانے کی تجویز کے خلاف مہم چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس سلسلے میں پاکستان زرعی تحقیقی کونسل کے بورڈ آف گورنرز کا اجلاس بدھ کو اسلام آباد میں ہو رہا ہے جس میں وفاقی دارلحکومت کے ترقیاتی ادارے یا سی ڈی اے کی طرف سے سامنے آنے والے رہائشی منصوبے کے خلاف قرارداد منظور کرنے کے علاوہ اس مسئلے کو مختلف فورمز پر اٹھانے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

سی ڈی اے نے وزیراعظم کو بھیجی گئی ایک سمری میں کہا ہے کہ اسلام آباد میں قائم زرعی تحقیقی ادارے کی جگہ یہاں رہائشی کالونی بنائی جائے۔

اس ادارے سے وابستہ سائنسدانوں پر یہ تجویز بجلی بن کر گری ہے اور وہ اس مجوزہ منصوبے کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ محمد الطاف شیر، زرعی سائنسدانوں کی تنظیم کے صدر ہیں اور اس تجویز کے خلاف ہونے والے سائنسدانوں کے مظاہروں کی قیادت کر رہے ہیں۔

وہ کہتے ہیں: ’پاکستان جس چیز میں خود کفیل ہے وہ خوراک ہے۔ اور ایسا اس طرح کے زرعی تحقیقی اداروں کی وجہ سے ممکن ہوا ہے جس ختم کر کے یہاں رہائشی کالونی بنانے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ ہم وزیراعظم سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس منصوبے کو مسترد کریں اور ہماری زمین ہمیں واپس کردیں تاکہ ہم اپنا تحقیقی سفر جاری رکھ سکیں۔‘

قومی زرعی تحقیقی ادارہ 40 سال پہلے وفاقی دارلحکومت کے مضافات میں قائم کیا گیا تھا۔ اس دوران شہر پھیلتا گیا اور اب یہ تحقیقی مرکز اسلام آباد شہر کے بیچوں بیچ واقع ہے۔ ایسے میں اس مرکز کی 12 سو ایکڑ سے زائد ہموار زمین پر ہاؤسنگ کالونیاں بنانے والے بہت سے سرکاری اور نجی اداروں کی نظریں لگی ہوئی ہیں۔

محمد الطاف شیر، زرعی سائنسدانوں کی تنظیم کے صدر ہیں
،تصویر کا کیپشنمحمد الطاف شیر، زرعی سائنسدانوں کی تنظیم کے صدر ہیں

الطاف شیر سمیت یہاں کام کرنے والے سائنسدانوں کو شک ہے کہ سی ڈی اے کی اس تجویز کے پیچھے حکومت میں شامل لینڈ مافیا کے بعض اہم کرداروں کا ہاتھ ہے۔

’آثار تو یہی بتا رہے ہیں کہ اس منصوبے کے پیچھے لینڈ مافیا کا ہاتھ ہے۔ میں یہ پوچھتا ہوں کہ اس ملک کے لیے تعلیم اور تحقیق زیادہ ضروری اور اہم ہے یا لینڈ مافیا؟‘

وفاقی ترقیاتی ادارے یا سی ڈی اے نے وزیراعظم کو بھیجی گئی سمری میں کہا ہے کہ این اے آر سی کے زیر استعمال 12 سو ایکڑ زمین کو رہائشی اور کمرشل پلاٹوں کی شکل میں فروخت کر کے ڈیڑھ سو ارب روپے کمائے جا سکتے ہیں۔ سی ڈی اے نے، این اے آر سی کو شہر سے دور، متبادل جگہ فراہم کرنے کی بھی پیشک کی ہے۔

لیکن سائنسدان کہتے ہیں ایسا ممکن نہیں ہے۔ اور اس انکار کی ایک وجہ ہے زرعی تحقیقی مرکز کا جین بنک۔ اس زرعی تحقیقی ادارے کے سائنسدان اس سرد خانے پر فخر کرتے ہیں۔ یہاں دنیا بھر میں ہونے والی قدیم اور جدید زرعی تحقیق کا ذخیرہ 35 ہزار نمونوں کی صورت میں محفوظ ہے جن میں سے بعض ایک سو سال سے بھی پرانے ہیں۔

ڈاکٹر ساجد مصطفیٰ اس جین بنک کے سربراہ ہیں
،تصویر کا کیپشنڈاکٹر ساجد مصطفیٰ اس جین بنک کے سربراہ ہیں

ڈاکٹر ساجد مصطفیٰ اس جین بنک کے سربراہ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس جین بنک کو تکنیکی وجوہات کی بنا پر کسی دوسری جگہ منتقل نہیں کیا جا سکتا۔

’اس سرد خانے میں بعض بیج اور دیگر مواد ہم نے منفی 196 ڈگری سنٹی گریڈ پر بھی محفوظ کیا ہوا ہے۔ اس درجہ حرارت پر محفوظ مواد کو ایک سیکنڈ کے لیے بھی اس درجہ حرارت سے کم نہیں کیا جا سکتا۔ اگر ایسا ہوا تو یہ سرد خانہ کئی دہائیوں سے محفوظ اس مواد کا قبرستان بن جائے گا۔‘

زرعی تحقیق کے اس قومی ادارے کی زمین پر تجربہ گاہیں بھی ہیں لیکن سائنسدانوں کے بقول ان کا بڑا سرمایہ تجربات کے لیے کاشت کی جانے والی فصلیں ہیں۔ اس کے علاوہ مویشیوں کو بیماریوں سے بچانے اور ان کو زیادہ نفع بخش بنانے کے لیے ان پر تجربات کے لیے بھی خاصا بڑا علاقہ مخصوص کیا گیا ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ سی ڈی اے کا منصوبہ صرف زرعی تحقیق کے خلاف ہی نہیں، بلکہ شہری منصوبہ بندی کے اصولوں کی بھی نفی کرتا ہے۔ ڈاکٹر ظفر الطاف کے بقول پاکستان میں فوڈ سیکیورٹی اور شہروں کا پھیلاؤ کے درمیان جو کشمکش ہے وہ اس موقع پر کھل کر سامنے آ رہی ہے۔

’پہلی بات تو یہ ہے کہ اگر اس زمین پر رہائیشی کالونی بن گئی تو اسلام آباد کو بھی کراچی اور لاھور جیسے مسائل کا سامنا ہو گا۔ دوسری بات یہ ہے کہ کھانے کے لیے اگر ضرورت کے مطابق خوراک نہیں ہوگی تو ان بڑی بڑی کالونیوں کا آپ کیا کریں گے؟‘

زرعی تحقیقی زمین کی جگہ رہائشی کالونی بنانے کا منصوبہ اب وزیر اعظم کے زیر غور ہے۔ ایسے میں یہ تجویز پیش کرنے والے ادارے، سی ڈی اے اور اس مجوزہ منصوبے سے منسلک دیگر سرکاری حکام اس معاملے پر مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔