مشکے میں ایف سی کی کارروائی، 13 مبینہ شدت پسند ہلاک

ایف سی کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے مبینہ شدت پسندوں میں بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سربراہ کا بھائی اور بھانجا بھی شامل ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنایف سی کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے مبینہ شدت پسندوں میں بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سربراہ کا بھائی اور بھانجا بھی شامل ہیں

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں فرنٹیئر کور نے ضلع آواران میں ایک کارروائی کے دورن 13 مبینہ شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

سرکاری ٹی وی نے ایف سی کے ترجمان کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ کارروائی تحصیل مشکے کے نواحی علاقوں میں کی گئی۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ کارروائی کا ہدف عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن فرنٹ کے ارکان تھے۔

ان کے مطابق آپریشن کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں 13 مبینہ شدت پسند مارے گئے جن میں کئی اہم کمانڈر بھی شامل ہیں۔

فرنٹیئر کور کے ترجمان نے کہا کہ شدت پسندوں نے ایف سی کے اہلکاروں پر بھی حملہ کیا جس میں ایک اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہو گئے۔

ایف سی کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے مبینہ شدت پسندوں میں بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سربراہ کا بھائی اور بھانجا بھی شامل ہیں۔

مشکے بی ایل ایف کے سربراہ اللہ نذر بلوچ کا آبائی علاقہ ہے اور اسے ان کی علیحدگی پسند تنظیم کا مضبوط گڑھ تصور کیا جاتا ہے۔

مشکے کے علاقے کو ڈاکٹر اللہ نذر کے عسکریت پسند گروپ کا مضبوط گڑھ تصور کیا جاتا ہے

،تصویر کا ذریعہbbc urdu

،تصویر کا کیپشنمشکے کے علاقے کو ڈاکٹر اللہ نذر کے عسکریت پسند گروپ کا مضبوط گڑھ تصور کیا جاتا ہے

ادھر بلوچستان کے وزیرِ داخلہ سرفراز بگٹی نے بتایا ہے کہ دو کالعدم تنظیموں یونائیٹڈ بلوچ آرمی اور بلوچ لبریشن آرمی کے ارکان کے مابین لڑائی میں بھی 20 کے قریب شدت پسند مارے جانے کی اطلاعات ہیں۔

منگل کو کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس میں انھوں نے بتایا کہ یہ جھڑپیں دوردراز کے علاقے میں ہوئیں اور سکیورٹی فورسز اب وہاں سرچ آپریشن کرنے پر غور کر رہی ہیں تاکہ حقائق معلوم کیے جا سکیں۔

خیال رہے کہ حال ہی میں حکومتِ پاکستان کے خلاف آزادی کی جنگ لڑنے والی بلوچستان لبریشن آرمی کے دو فراری کمانڈروں نے 57 ساتھیوں سمیت ہتھیار ڈالے تھے۔

اس اقدام کے بعد دہشت گردی اور شدت پسندی کے خلاف قومی لائحہ عمل کے تحت بلوچستان میں قائم کی گئی صوبائی ایپکس کمیٹی نے یہ اعلان بھی کیا ہے کہ ریاست کے خلاف برسرِ پیکار جو نوجوان مسلح کارروائی ترک کرنے کا یقین دلائیں گے، انھیں عام معافی دی جائے گی۔