این جی اوز کے بارے میں نئی پالیسی بنانے کا اعلان

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت پاکستان میں کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں کے بارے میں پالیسی اسی ماہ پیش کر دی جائے گی جس پر عمل درآمد نہ کرنے والی تنظیموں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی جس بارے میں کوئی بھی بین الاقوامی دباؤ قبول نہیں کیا جائے گا۔
جمعے کوپارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ غیر سرکاری تنظیم ’سیو دی چلڈرن‘ ایسی سرگرمیوں میں ملوث تھی جو پاکستان کے مفاد کے خلاف تھیں اور جس سے متعلق خفیہ اداروں نے بھی متعدد بار رپورٹس پیش کی تھیں۔
اُنھوں نے کہا کہ مذکورہ تنظیم پر پابندی لگانے پر متعدد ممالک میں طوفان برپا ہوگیا ہے جبکہ ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔
وزیر داخلہ کا کہنا ہے کوئی بھی ملک کسی غیر سرکاری تنظیم کو اپنے قوانین کی خلاف ورزی کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔
اُنھوں نے کہا کہ جو غیر سرکاری تنظیمیں اپنے مینڈیٹ میں رہ کر کام کریں گی تو اُنھیں مکمل تحفظ فراہم کیا جائے گا جبکہ اپنے مینڈیٹ سے ہٹ کر کام کرنے والی تنظیموں کو نتائج بھی بھگتنے ہوں گے۔
اُنھوں نے کہا کہ کسی بھی غیر سرکاری تنظیم کو غیر ملکی ایجنڈے پر عمل درآمد کی اجازت نہیں دی جائے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں دو ایسی غیر سرکاری تنظیمیں بھی کام کرتی رہی ہیں جو پاکستان میں نہیں بلکہ افریقہ کے ملکوں میں رجسٹرڈ تھیں اور ان تنظیموں نے بلوچستان اور گلگت بلتستان سے متعلق منفی پروپیگنڈا اور من گھڑت خبریں دینا شروع کر دی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اُنھوں نے کہا کہ پاکستان اس معاملے کو غیر سرکاری تنظیموں سے متعلق اقوام متحدہ کی کمیٹی میں لے کر گیا جہاں پر عمومی طور پر معاملات اتفاق رائے سے طے کیے جاتے ہیں لیکن ان دو غیر سرکاری تنظیموں کے معاملے میں ووٹنگ کروائی گئی جس میں 12 ارکان نے پاکستان کے موقف کو تسلیم کیا جبکہ تین ممالک نے ان غیر سرکاری تنظیموں کے موقف کی حمایت کی۔
وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ان تین ممالک میں امریکہ، بھارت اور اسرائیل شامل تھے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ کچھ غیر سرکاری تنظیموں نے اپنے گھناؤنے مقاصد کی تکمیل کے لیے پاکستانی معاشرے سے ایسے افراد کی خدمات بھی حاصل کی ہیں جو یا تو سابق سیاست دان ہیں اور یا اُن کا تعلق مختلف شعبہ ہائے زندگی سے ہے۔
سزائے موت پر عمل درآمد سے متعلق یورپی یونین کے خدشات کے بارے میں وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں قانون کے تحت سزائے موت قانونی ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ پاکستان میں سزائے موت بحال ہونے پر ایک طوفان برپا ہے۔
چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ 8سالہ بچے کے قتل کے مقدمے میں موت کی سزا پانے والے شفقت حسین کے معاملے پر مجرم کی بچپن کی تصویر لیکر دنیا بھر میں واویلہ مچایا گیا کہ ایک کم عمر کو سزائے موت دی جا رہی ہے جو کہ حقائق کے منافی ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ پاکستانی عدالتی نظام کو کس طور پر متنازع بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔







