پاکستان میں سیو دی چلڈرن کے دفاتر سیل، ادارے کی مذمت

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کی حکومت نے بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی بین الاقوامی فلاحی تنظیم سیو دی چلڈرن کو ملک میں آپریشن بند کرنے کا حکم دیا ہے اور غیر ملکی عملے کو کہا ہے کہ آئندہ 15 دن میں ملک چھوڑ دیں۔
وزارتِ داخلہ کے حکم پر دارالحکومت اسلام آباد میں بین الاقوامی فلاحی تنظیم سیو دی چلڈرن کے مرکزی دفتر اور ملک میں پھیلے دفاتر کو سیل کر دیا گیا ہے۔
<link type="page"><caption> سیو دی چلڈرن، غیر ملکی اہلکاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2012/09/120906_save_children_expels_zz" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> غیر سرکاری تنظیمیں اور حکومتی خدشات</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2012/07/120730_pak_ngos_ziauddin_fz" platform="highweb"/></link>
وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ تنظیم سے تعلق رکھنے والے تمام غیر ملکی عملے 15 روز کے اندر اندر پاکستان چھوڑ دے۔
حکام کا کہنا ہے کہ سیو دی چلڈرن پر پابندی لگانے کا حکم خفیہ اداروں کی رپورٹ کی بنیاد پر کیا گیا۔
خفیہ اداروں کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی فلاحی تنظیم سیو دی چلڈرن ایسے کاموں میں ملوث ہے جو ملک دشمن سرگرمیوں میں شمار ہوتی ہیں۔
بیان میں کہا ہے کہ ملک کے خفیہ ادارے ایبٹ آباد میں امریکی افواج کے خفیہ آپریشن میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد سے سیو دی چلڈرن کی نگرانی کر رہی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس حوالے سے یہ بھی بتایا گیا کہ گذشتہ حکومت کے دور میں بھی خفیہ اداروں کی رپورٹ میں تنظیم کے دفاتر سیل کرنے کی سفارش کی گئی تھی تاہم اس وقت حکومت نے اس تنظیم کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی تھی۔

ایس پی سٹی احمد اقبال نے بی بی سی کو بتایا کہ وزارت داخلہ کے حکم نامے کے بعد ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے اسلام آباد کے سیکٹر ایف سکس میں واقع سیو دی چلڈرن کے صدر دفتر کو بند کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔
اس حکم نامے کے بعد پولیس نے اس دفتر کو سیل کر دیا ہے اور دفتر کے باہر نفری تعینات کر دی گئی ہے۔
یاد رہے کہ سنہ 2012 میں بھی بین الاقوامی تنظیم سیو دی چلڈرن نے کہا تھا کہ پاکستانی حکام نے ادارے کے غیر ملکی اہلکاروں کو دو ہفتوں کے اندر ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔ تنظیم نے یہ بھی کہا تھا کہ پاکستان میں چھ غیر ملکیوں سمیت دو ہزار سے زیادہ اہلکار موجود ہیں۔
امریکی خفیہ ادارہ سی آئی اے نے پاکستان میں اسامہ لادن کی موجودگی کا پتہ لگانے کے لیے ڈاکٹر شکیل آفریدی کی نگرانی میں جعلی ویکسنیشن مہم چلائی تھی۔
مئی 2011 میں ایبٹ آباد آپریشن کے بعد سے حکومت نے ملک میں کام کرنے والی غیر سرکاری فلاحی تنظیموں کی نگرانی تیز کر دی ہے۔
سیو دی چلڈرن کا موقف
سیو دی چلڈرن کے پاکستان میں نیشنل میڈیا ایڈووکیسی مینیجر سعید احمد نے ایک بیان میں اسلام آباد کا دفتر بند کیے جانے کی تصدیق کی ہے۔
تاہم بیان میں ان کا کہنا ہے کہ حکام کی جانب سے تنظیم کو اس حوالےسے کسی قسم کا نوٹس نہیں دیا گیا تھا۔
’ہم اس قدم کی پرزور مذمت کرتے ہیں اور اپنے تحفظات اعلیٰ حکام تک پہنچائیں گے۔‘
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’سیو دی چلڈرن گذشتہ 35 سالوں سے پاکستان میں کام کر رہی ہے اور اس وقت 1200 کے قریب ملازمین کام کر رہے ہیں اور پاکستان میں کوئی بھی غیر ملکی کام نہیں کر رہا ہے۔‘







