’بیٹا ماں بھی مر چلی ہے تیرے انتظار میں‘

سزائے موت پانے والا آفتاب تین بھائیوں اور دو بہنوں کا بھائی تھا

،تصویر کا ذریعہAftab Bahadur

،تصویر کا کیپشنسزائے موت پانے والا آفتاب تین بھائیوں اور دو بہنوں کا بھائی تھا
    • مصنف, عدیل اکرم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

پاکستان میں قتل کے مقدمے میں سزائے موت پانے والے ایک ایسے شخص کو پھانسی دے دی گئی ہے جن کی عمر سزا سنائے جاتے وقت صرف 15 برس تھی۔

آفتاب بہادر کو بدھ کو علی الصبح تختۂ دار پر لٹکایا گیا۔

مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے آفتاب کو 1992 میں لاہور میں ایک خاتون سمیت تین افراد کو قتل کرنے کا جرم میں پھانسی دی گئی ہے۔

حقوقِ انسانی کی عالمی تنظیموں کی جانب سے آفتاب بہادر کو سزائے موت دیے جانے کی مذمت کی گئی ہے۔ اور ایک تنظیم ریپریو نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’یہ پاکستان کےنظامِ انصاف کے لیے ایک شرمناک دن ہے‘۔

سزائے موت پانے والا آفتاب تین بھائیوں اور دو بہنوں کا بھائی تھا۔

آفتاب کے بھائی بابر بہادر کا کہنا ہے کہ اُن کے بھائی کے ساتھ نا انصافی ہوئی ہے کیونکہ کہ اُن کے بھائی نے کوئی جرم نہیں کیا تھا۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ اُنہیں پھانسی کے بارے میں بھی صرف چار دن پہلے آگاہ کیا گیا اور وہ اِن چار دنوں میں کچھ نہیں کر سکتے تھے۔

بابر بہادر کا کہنا ہے کہ مدعی نے پھانسی کی سزا پانے والے دوسرے مجرم غلام مصطفیٰ کو تو معاف کر دیا جبکہ وہ سزا کے وقت تیس سال سے زیادہ عمر کا تھا ’لیکن اُن کے نابالغ بھائی کو محض اِس لیے معاف نہیں کیا گیا کیونکہ وہ ایک مسیحی تھا‘۔

بابر بہادر کے بقول نہ تو اُنہیں اور نہ ہی اُن کے گھر والوں کو پتہ تھا کہ عدالت میں کیس کو کیسے لڑنا ہے اور نہ ہی وہ مالدار تھے کہ اپنے بھائی کے لیے وکیل کر سکتے۔ اُنہوں نے کہا کہ تین سال پہلے اُن کی والدہ یہ کہتے کہتے اِنتقال کر گئیں کہ ’بیٹا اب تو ماں بھی مر چلی ہے تیرے اِنتظار میں‘۔

’جیل کے اندر جتنے بھی سائن بورڈز لگے ہوئے ہیں وہ بھی آفتاب ہی کے لکھے ہوئے ہیں‘

،تصویر کا ذریعہAftab Bahadur

،تصویر کا کیپشن’جیل کے اندر جتنے بھی سائن بورڈز لگے ہوئے ہیں وہ بھی آفتاب ہی کے لکھے ہوئے ہیں‘

گزشتہ تیس سال سے مجرموں کی کونسلنگ کرنے والے آرتھر ولسن نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ آفتاب کی کونسلنگ پچھلے اٹھارہ سال سے کر رہے تھے۔

آرتھر ولسن کا کہنا ہے کہ وہ آفتاب اور قتل کے دوسرے مجرم غلام مصطفیٰ سے بھی ملتے اور دونوں کی معافی کے لیے کوشش کرتے رہے۔

آرتھر ولسن نے بتایا کہ آفتاب نے جیل ہی میں پہلے میٹرک اور پھر ایف اے پاس کیا اور وہ پینٹنگ، مناظر کی تصویر کشی کے ساتھ ساتھ شاعری بھی کرتا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ جیل کے اندر جتنے بھی سائن بورڈز لگے ہوئے ہیں وہ بھی آفتاب ہی کے لکھے ہوئے ہیں جبکہ یونان کے چرچ اور یو این کے دفتر میں بھی آفتاب کی بنائی ہوئی تصاویر لگی ہوئی ہیں۔