مزید ریمانڈ کی درخواست رد، شعیب شیخ کو جیل بھیج دیا گیا

،تصویر کا ذریعہEPA
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
کراچی کی مقامی عدالت نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی کمپنی ایگزیکٹ کے سربراہ شعیب شیخ، نائب صدر اور ڈائریکٹروں سمیت نو افراد کو جعلی ڈگریوں کے معاملے میں جیل بھیج دیا ہے۔
وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے پیر کو تمام ملزمان کو جوڈیشل میجسٹریٹ نور محمد کی عدالت میں پیش کیا۔
ایف آئی اے کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزمان سے تفتیش جاری ہے، لہٰذا ان کے ریمانڈ میں توسیع کی جائے۔
عدالت نے اس درخواست کو مسترد کر دیا اور ملزمان کو جیل بھیجنے کے احکامات جاری کیے۔
عدالت نے ایف آئی اے حکام کو چالان پیش کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔
ادھر ایف آئی اے نے ایگزیکٹ کے راولپنڈی اور اسلام آباد میں واقع دفتر سے وابستہ 26 افراد کے خلاف جعل سازی اور منی لانڈرنگ کا مقدمہ درج کر کے ان میں سے 17 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایف آئی اے راولپنڈی اور اسلام آباد ریجن کے ڈائریکٹر انعام غنی نے بی بی سی اردو کے شہزاد ملک کو بتایا کہ جن افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے ان میں ایگزیکٹ کے ریجنل ڈائریکٹر کرنل ریٹائرڈ محمد جمیل بھی شامل ہیں، تاہم اُنھیں گرفتار نہیں کیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اُنھوں نے کہا جن افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اُنھیں پیر کو مقامی عدالت میں پیش کیا جائے گا اور مزید تفتیش کے لیے ملزمان کا جسمانی ریمانڈ لینے کی استدعا کی جائے گی۔
ایف آئی اے نے کراچی میں شعیب شیخ اور دیگر افراد کے خلاف مقدمہ الیکٹرانک ٹرانزیکشن کی زیر دفعہ 39/38، اینٹی منی لانڈرنگ کی دفعہ 4/3،468 اور 471 پی پی سی کے تحت دائر کیا ہے۔
ایف آئی اے نے جعلی ڈگریوں کے معاملے میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی کمپنی ایگزیکٹ کے سربراہ شعیب شیخ، وقاص عتیق، ذیشان انور، ذیشان احمد، محمد صابر اور ایگزیکٹ کی دبئی میں واقع کمپنی میسرز/ ایگزیکٹ ایف زیڈ ایل ایل سی کو فریق بنایا تھا۔
شعیب شیخ اور ڈائریکٹروں کی گرفتاری کے بعد کمپنی کے نائب صدر عمران احمد، ایسوسی ایٹ نائب صدر محمد رضوان، عدنان صبور اور انجینیئر عاطف حسین کو گرفتار کیا گیا تھا۔
ایگزیکٹ کے خلاف یہ کارروائی امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی خبر سامنے آنے کے بعد شروع ہوئی تھی جس میں ایگزیکٹ پر جعلی اسناد جاری کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
اس سے قبل سندھ ہائی کورٹ نے جعلی ڈگریوں کے سکینڈل میں شعیب شیخ کی امکانی گرفتاری کے خلاف حفاطتی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی، تاہم حکام کو یہ ہدایت کی تھی کہ ملزم کو ہراساں نہ کیا جائے۔
ایف آئی اے کی کارروائی کے باعث ایگزیکٹ کمپنی کے مجوزہ نیوز چینل ’بول‘ کا منصوبہ بھی متاثر ہو رہا ہے، جس کی لانچنگ پہلی رمضان سے کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔
اس سلسلے میں بول کے ملازمین اور صحافی تنظیموں کی جانب سے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔







