کوئٹہ میں احتجاج، مستونگ میں ایف سی کا سرچ آپریشن

،تصویر کا ذریعہEPA
- مصنف, محمد کاظم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع مستونگ میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین نے کوئٹہ میں گورنر ہاؤس اور وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ کے سامنے احتجاجی دھرنا دیا جبکہ حکام کا دعویٰ ہے کہ مستونگ سرچ آپریشن کے دوران سات دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب فائرنگ کے واقعے میں ہلاک ہونے والے مسافروں کی تعداد 21 ہو گئی ہے۔
<link type="page"><caption> مستونگ میں 19 مسافروں کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/05/150529_mastung_bus_firing_rwa" platform="highweb"/></link>
اس سے قبل لواحقین سے مذاکرات کے لیے صوبائی وزیراطلاعات عبدالرحیم زیارت وال، بلوچستان اسمبلی میں حزب اختلاف کے رہنما مولانا عبدالواسع اور عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر انجنیئیر زمرک خان گئے تھے تاہم مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ وہ وزیراعلیٰ بلوچستان یا کسی اعلیٰ حکومتی یا فوجی عہدیدار سے مذاکرات کریں گے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے مظاہرین سے بات چیت کی اور انھیں یقین دلایا کہ مجرموں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔
مظاہرین نے تشدد کے واقعے پر کل جماعتی کانفرنس طلب کیے جانے، متاثرین کو معاوضہ دینے اور مجرمان کی فوری گرفتاری سمیت تمام مطالبات تسلیم کیے جانے پر احتجاجی دھرنا ختم کر دیا۔
سانحہ مستونگ کے سوگ میں سنیچر کو کوئٹہ شہر میں مکمل ہڑتال کی گئی۔

،تصویر کا ذریعہEPA
دوسری جانب ایف سی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ مستونگ میں نامعلوم افراد کی جانب سے مسافروں کو نشانہ بنانے کے واقعے کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ترجمان کے مطابق سرچ آپریشن میں دو مسلح افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
رات سے جاری اس آپریشن میں 200 سے زائد ایف سی اہلکار حصہ لے رہے ہیں اور انھیں ہیلی کاپٹرز کی مدد بھی حاصل ہے۔
بلوچستان کے وزیرِ داخلہ سرفراز بگٹی نے سنیچر کو پریس کانفرنس سے خطاب میں صحافیوں کو بتایاکہ اس آپریشن میں اب تک سات دہشت گرد ہلاک ہوچکے ہیں۔ صوبائی وزیرداخلہ نے کہا کہ دہشت گردوں کے خاتمے تک یہ آپریشن جاری رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے خلاف ایک سازش ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اس سے قبل وزیرِ داخلہ سرفراز بگٹی نے خبر رساں ادارے روئیٹرز کو بتایا کہ مسلح افراد نے سکیورٹی افواج کی یونیفارم پہنی ہوئی تھیں۔
بلوچستان کے وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے مستونگ واقعہ کے خلاف تین روزہ سرکاری سوگ کا اعلان کیا تھا۔
واضح رہے کہ جمعے اور سنیچر کی درمیانی شب نامعلوم مسلح افراد نے ضلع کے علاقے کھڈ کوچہ میں دو مسافر بسوں کو روکا اور دونوں مسافر بسوں سے مجموعی طور پر 25 مسافروں کو اتارا گیا۔ اغوا کیے جانے والے پانچ مسافروں کو چھوڑ دیا گیا جبکہ باقی کو گولیاں ماردی گئیں۔
ہلاک ہونے والے زیادہ افراد کا تعلق بلوچستان کے ضلع پشین سے ہے۔







