مستونگ میں 19 مسافروں کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, محمد کاظم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع مستونگ میں نامعلوم مسلح افراد نے دو بسوں کے کم از کم 19 مسافروں کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔
ان مسافروں کو پشین سے کراچی جانے والی دو مسافر بسوں سے اتارا گیا تھا۔
بلوچستان کے وزیرِ داخلہ سرفراز بگٹی نے بی بی سی بات کرتے ہوئے 19 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
سرفراز بگٹی نے خبر رساں ادارے روئیٹرز کو بتایا کہ مسلح افراد نے سکیورٹی افواج کی یونیفارم پہنی ہوئی تھیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ابھی تک 19 مسافروں کی لاشیں ملی ہیں۔
پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق بلوچستان کے وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے مستونگ واقعہ کے خلاف تین روزہ سرکاری سوگ کا اعلان کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتیں اور عوام دہشت گردی کے خلاف حکومت کا ساتھ دیں۔
انھوں نے کہا متحد ہو کر ہی دہشت گردی کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مستونگ انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ نامعلوم مسلح افراد نے ضلع کے علاقے کھڈ کوچہ میں دو مسافر بسوں کو روکا۔
اہلکار نے بتایا کہ دونوں مسافر بسوں سے مجموعی طور پر 25 مسافروں کو اتارا گیا۔ اغوا کیے جانے والے پانچ مسافروں کو چھوڑ دیا گیا جبکہ باقی کو گولیاں ماردی گئیں۔
اہلکار کے مطابق فائرنگ سے 19 مسافر ہلاک اورایک زخمی ہوا۔
ہلاک ہونے والے زیادہ افراد کا تعلق بلوچستان کے ضلع پشین سے ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty
انتظامیہ کے اہلکار نے بتایا کہ اغوا کے بعد مغویوں کی بازیابی کے لیے اغوا کاروں کا تعاقب کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اغوا کاروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے درمیان فائرنگ کا بھی تبادلہ ہوا۔
انھوں نے بتایا کہ رات گئے تک قانون نافذ کرنے والے اداروں اور اغوا کاروں کے درمیان فائرنگ کا سلسلہ بھی جاری رہا۔
بلوچستان کے ایک سینئیر اہل کار نے خبر رساں ادارے اے ایف کو بتایا کہ نا معلوم افراد نے بسوں کو روکنے کے بعد دو درجن سے زائد مسافروں کو اغوا کر لیا اور پھر فائرنگ کر کے کم سے کم 19 مسافروں کو ہلاک کر دیا۔
ضلع مستونگ کوئٹہ کے جنوب میں میں اندازاً 45 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
مستونگ ضلع کا شمار بھی بلوچستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جہاں پہلے بھی بد امنی کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔







