ایگزیکٹ کے سربراہ کے خلاف ایف آئی آر میں کیا ہے؟

ایف آئی اے کی استدعا پر جعلی ڈگریوں کے معاملے میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی کمپنی ایگزیکٹ کے سربراہ شعیب شیخ اور وقاص عتیق سمیت پانچ ڈائریکٹروں کو سات جون تک جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی کے حوالے کیا تھا

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنایف آئی اے کی استدعا پر جعلی ڈگریوں کے معاملے میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی کمپنی ایگزیکٹ کے سربراہ شعیب شیخ اور وقاص عتیق سمیت پانچ ڈائریکٹروں کو سات جون تک جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی کے حوالے کیا تھا
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے جعلی ڈگریوں کے معاملے میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی کمپنی ایگزیکٹ کے سربراہ شعیب شیخ، وقاص عتیق، ذیشان انور، ذیشان احمد، محمد صابر اور ایگزیکٹ کی دبئی کمپنی میسرز/ ایگزیکٹ ایف زیڈ ایل ایل سی (FZLLC) کو بھی فریق بنایا ہے۔

ایف آئی اے نے یہ مقدمہ الیکٹرانک ٹرانزیکشن کی زیر دفعہ 39/38، اینٹی منی لانڈرنگ کی دفعہ 4/3،468 اور 471 پی پی سی کے تحت دائر کیا ہے۔

ایف آئی آر میں 44 اداروں کے نام بھی دیے گئے ہیں جن کے نام پر یہ ڈگریاں اور سرٹیفیکیٹ موجود تھے جبکہ آٹھ ایکریڈیشن باڈیز کے نام بھی موجود ہیں جو ان ڈگریوں کی تصدیق کرتی تھیں۔ چھاپے میں ان کے لفافے اور دیگر کاغذات بھی برآمد ہوئے ہیں۔

ایف آئی آر میں بھی بتایا گیا ہے کہ مذکورہ دفتر سے امبوسنگ مشین کے علاوہ لاتعداد اسناد برآمد ہوئی ہیں جن کی ابھی گنتی اور شناخت کرنا باقی ہے۔

بتایا گیا ہے کہ پی آئی اے بلڈنگ میں واقع ایگزیکٹ کے دفتر جو ایک ہال، کمروں اور تین سٹورز پر مشتمل تھا پر چھاپہ مار کر ہزاروں کی تعداد میں خالی ڈگریاں اور سرٹیفیکیٹ برآمد کیے گئے ہیں جن پر غیر ملکی اداروں کے نام تحریر تھے۔

ایگزیکٹ کے خلاف یہ کارروائی امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی وہ خبر سامنے آنے کے بعد شروع ہوئی تھی جس میں ایگزیکٹ پر جعلی اسناد جاری کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنایگزیکٹ کے خلاف یہ کارروائی امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی وہ خبر سامنے آنے کے بعد شروع ہوئی تھی جس میں ایگزیکٹ پر جعلی اسناد جاری کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا

ایف آئی آر کے مطابق ایگزیکٹ ڈگریوں کے اجرا کے ساتھ ان کی تصدیق بھی جعلی اداروں کے نام سے کرتی رہی ہے۔

ایف آئی اے کا ایک افسر کا کہنا ہے کہ اس ریکارڈ کی چھان بین میں کئی ماہ کا وقت درکار ہے جبکہ ان میں دیئے گئے اداروں کے نام کی ان ممالک سے تصدیق کے لیے مشترکہ اسیسمنٹ ایگریمنٹ کا ہونا بھی ضروری ہے جو کہ دستیاب نہیں ہے۔

اس سے پہلےکراچی کی ایک عدالت نے ایف آئی اے کی استدعا پر جعلی ڈگریوں کے معاملے میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی کمپنی ایگزیکٹ کے سربراہ شعیب شیخ اور وقاص عتیق سمیت پانچ ڈائریکٹروں کو سات جون تک جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی کے حوالے کیا تھا۔

ایف آئی اے نے استدعا کی تھی کہ ملزمان سے مزید تفتیش کرنی ہے لہٰذا 14 روز کا جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔

ایف آئی آر درج ہونے کے بعد ایف آئی اے نے شعیب شیخ اور وقاص عتیق سمیت پانچ ڈائریکٹروں کو ہتھکڑیاں لگاکر کر جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں ریمانڈ کے لیے پیش کیا تھا۔

ایف آئی اے نے جعلی ڈگریوں کے معاملے میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی کمپنی ایگزیکٹ کے سربراہ شعیب شیخ کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔

شعیب شیخ کو منگل اور بدھ کی درمیانی شب حراست میں لیا گیا تھا اور اب وہ زیرِ تفتیش ہیں۔

ایگزیکٹ کے خلاف یہ کارروائی امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی وہ خبر سامنے آنے کے بعد شروع ہوئی تھی جس میں ایگزیکٹ پر جعلی اسناد جاری کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ ایگزیکٹ اور ٹی وی چینل ’بول‘ کے مالک شعیب شیخ نے منگل کو ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل کے دفتر میں پیش ہو کر اپنا بیان ریکارڈ کرایا تھا۔

اس سے قبل سندھ ہائی کورٹ نے جعلی ڈگریوں کے سکینڈل میں ان کی امکانی گرفتاری کے خلاف حفاطتی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی تاہم حکام کو یہ ہدایت کی تھی کہ ملزم کو ہراساں نہ کیا جائے۔