’پاکستان میں بڑھتا ہوا فرقہ وارانہ تشدد‘

اسلام آباد میں ایک بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیم کی تازہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں گذشتہ چند برسوں میں فرقہ ورانہ تشدد میں شیعہ برادری کے جانی نقصان میں اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس کی بڑی وجہ پاکستان کی سیاسی طور پر سعودی عرب اور خلیج ممالک کی عرب ریاستوں سے قربت کا نتیجہ ہے۔
ڈویلپمنٹ آلٹرنیٹو انٹرنیشنل نامی غیر سرکاری تنظیم کے زیرِ انتظام چلنے والے آواز پروگرام کی جانب سے ’پاکستان میں شیعہ سنی تصادم اور کمیونٹی سطح پر حل‘ کے عنوان سے ایک جامع تحقیقی رپورٹ جاری کی گئی ہے۔
یہ پروگرام برطانیہ کے ادارے ڈیپارٹمنٹ فار انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ کی طرف سے لاگو کیا گیا ہے۔
یہ رپورٹ صوبہ پنجاب کے شہر راولپنڈی اور ڈیرہ غازی خان جبکہ خیبر پختونخواہ کے ڈیرہ اسماعیل خان میں شیعہ اور سنی مسلک کے افراد سے تفصیلی انٹرویو ز اور بحث مباحثے کے بعد تیار کی گئی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ راولپنڈی، ڈی جی خان اور ڈی آئی خان کا اس لیے انتخاب کیا گیا ہے کہ ان اضلاع میں گذشتہ برسوں میں فرقہ وارنہ فسادات اور حملے ہو چکے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ میں گیارہ ستمبر کو ہونے والے حملوں کے بعد شدت پسند تنظموں کے نیٹ ورک میں اضافہ ہوا اور پنجاب اور خیبر پختونخواہ کے علاقوں میں طالبان اور القاعدہ جیسی تنظیموں نے اپنی جڑیں مضبوط کیں جس کے بعد پاکستان میں حملوں کا ایک سلسلہ شروع ہوا۔
رپورٹ کے مطابق سنہ 2007 سے لیکر اب تک پورے پاکستان میں فرقہ وارانہ حملوں میں 3,800 سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں جس میں اکثریت شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے افراد کی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شیعہ اور سنیوں درمیان ہونے والے اس تصادم نے اب نئی صورت اختیار کر لی ہے جس میں ایک دوسرے کے رہنماوں کے قتل اور بم دھماکوں میں اضافہ ہوا ہے اور شیعہ برادری کے خلاف نفرت میں اضافہ ہوا ہے۔
آواز پروگرام کی رپورٹ کے مطابق شیعہ برادری کے خلاف بڑھتے تشدد کی وجہ پاکستان کی سیاسی طور پر سعودی عرب اور خلیج ممالک کی عرب ریاستوں سے قربت کا نتیجہ ہے۔
رپورٹ نے تجویز دی ہے کہ شیعہ اور سنی مسلک کے افراد کے مابین ہونے والے تصادم کو ختم کرنے کےلیے ضلعی سطح پر ایک مربوط حکمت عملی بنانے کی اشد ضرورت ہے جس میں خواتین شراکت اور حکومت کے کردار کو یقینی بنایا جائے۔
رپورٹ کے مطابق ضلعی امن کمیٹیاں قائم کی جائیں جس میں شیعہ اور سنی دونوں مسالک کے افراد کو شامل کیا جائے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ضلعی امن کمیٹیوں کو مساجد کے لاوڈ سپیکر کے غلط استعمال کو روکنے کا اختیار بھی ہو۔
اس سے پہلے آواز پروگرام کے سربراہ حارث خلیق نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس پروگرام نے عام لوگوں کےلیے ایک ایسا پلیٹ فارم متعارف کروایا جس پر وہ کھل پر اپنی بات کر سکتے ہیں اور مسائل کے حل کےلیے اپنی تجاویز بھی دیتے رہتے ہیں۔
یاد رہے کہ یہ پانچ سالہ پروگرام ہے جو سنہ 2012 میں شروع ہوا تھا اور پنجاب اور خیبر پختونخواہ کے 45 اضلاع میں کام کر رہا ہے۔







