سوات میں امن کمیٹیوں کے ممبران حملوں سے خوفزدہ

- مصنف, سید انور شاہ
- عہدہ, سوات
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کی وادی سوات میں قومی لشکر اور امن کمیٹیوں کے ممبران کی ہلاکت کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور اب سکیورٹی حکام نے انھیں محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔
سوات میں شدت پسندوں کی جانب سے امن کمیٹیوں کے ممبران اور قومی لشکر کے رضا کاروں کو آئے روز دھمکیاں ملتی رہتی ہیں وہاں ان کمیٹیوں کے ممبران کو عسکریت پسندوں کی جانب سے حملوں کا خطرہ بھی رہتا ہے تاہم مقامی لوگ اس حوالے سے کہتے ہیں کہ شدت پسند آسان اہداف کے جانب مائل ہونا ان کی کمزوری کی علامت ہے اور وہ دہشت گردی کے خلاف حکومت اور عوام کا عزم توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
سوات میں امن کمیٹیوں کے ممبران کو سکیورٹی فورسز کی طرف سے ہدایات دی گئی ہے کہ وہ رات کو گھروں سے نہ نکلیں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور اپنی حفاظت کے لیے اسلحہ ساتھ رکھیں۔
سوات میں فوج کے شعبہ تعلقات عامہ یعنی آئی ایس پی آر کے ترجمان کرنل فاروق نے بی بی سی کو بتایا کہ سوات میں اب مکمل طور پر امن قائم ہے تاہم اس کا مقصد یہ ہے کہ امن کمیٹیوں کے ممبران اپنے اردگرد کے ماحول اور انجان لوگوں پر نظر رکھیں تا کہ علاقے میں امن و امان کی صورتحال مزید مستحکم ہو
امن کمیٹیوں کے ممبران پر شدت پسندوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کی وجہ سے متعدد ممبران علاقہ چھوڑ گئے ہیں۔
سوات قومی امن جرگے کے ترجمان رحمت شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ امن کمیٹیوں کے ممبران کی ٹارگٹ کلنگ میں شدت اور دھمکیوں کے بعد بیشتر ممبران یا تو بیرون ملک منتقل ہو چکے ہیں یا علاقہ چھوڑ کر ملک کے دیگر نسبتاً محفوظ علاقوں میں چلے گئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
انھوں نے نیک پی خیل امن جرگے کے ادریس خان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ بھی اپنے خاندان سمیت امریکہ منتقل ہو چکے ہیں۔
رحمت شاہ نے مزید بتایا کہ امن کمیٹیوں کے ممبران کو ملنے والی دھمکیوں کی وجہ سے سکیورٹی فورسز نے انھیں محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سوات قومی امن جرگے کے سربراہ سید انعام الرحمان نے بی بی سی کو بتایا کہ علاقے کے جغرافیائی صورتحال سے واقف امن لشکر اور امن کمیٹیاں اپنے علاقوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر رہی ہیں تاہم کافی عرصے سے یہ کمیٹیاں حکومتی عدم توجہ کا بھی شکار ہیں اور آج تک سوات کے کسی بھی علاقے میں دہشت گردوں کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے امن کمیٹی کے ممبر کے ورثا کو حکومت کی طرف سے کسی قسم کی امداد نہیں دی گئی۔
خیال رہے کہ سوات کے مختلف علاقوں میں 2014 کے دوران امن کمیٹیوں کے 20 کے قریب ممبران کو ہدف بنا کر قتل کیاگیا ہیں جس کی وجہ سے امن کمیٹیوں کے ممبران خوف کا شکار ہیں مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے امن کمیٹیوں کے ممبران علاقے سے نقل مکانی کر چکے ہیں اور نقل مکانی کا یہ سلسلہ بدستور جاری ہے۔







