’پاکستانی فضائیہ کا افسر جاسوسی کے الزام میں زیرِ حراست‘

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
جاسوسی کے الزام میں زیرِ حراست پاکستان فضائیہ کے افسر سکوارڈن لیڈر حسن کے وکیل کا کہنا ہے کہ ان کے موکل کے خلاف الزامات مفروضے پر مبنی ہیں اور حراست میں لیے جانے کے چھ ماہ بعد بھی انھیں چارج شیٹ نہیں دی گئی ہے۔
افسر کی حراست کا معاملہ پیر کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں اس وقت سامنے آیا تھا جب ان کی اہلیہ کی درخواست کی سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا تھا کہ ملزم کے خلاف تحقیقات جاری ہیں جس کے بعد ان کا کورٹ مارشل کیا جائے گا۔
جسٹس نور الحق قریشی کی عدالت میں زیر سماعت اس درخواست میں پاکستان فضائیہ کی طرف سے عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ ایئر ویپن کمپلیکس حسن ابدال میں تعینات سکوارڈن لیڈر حسن کو جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے اور اس ضمن میں ایک ٹیم ان الزامات کی تحقیقات کر رہی ہے جو جلد ہی مکمل ہو جائیں گی۔
عدالت کو یہ نہیں بتایا گیا کہ ان پر کس قسم کی جاسوسی کرنے کے الزامات ہیں اور تفتیش کہاں تک پہنچی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل کرنل ریٹائرڈ انعام رحیم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جاسوسی ایک ایسا الزام ہے جو کسی پر بھی لگا کر ان کے خلاف تحقیقات شروع کی جا سکتی ہیں۔
اُنھوں نے کہا کہ سکوارڈن لیڈر کو گذشتہ برس نومبر میں حراست میں لیا گیا تھا جبکہ چھ ماہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود ان کے خلاف کارروائی مکمل نہیں کی گئی۔
انعام الرحیم کا کہنا تھا کہ ایئرفوس ایکٹ کے تحت کس بھی اہلکار کو گرفتار کرنے سے پہلے انھیں چارج شیٹ دی جاتی ہے اور اگر ایسا ممکن نہ ہو تو 48 گھنٹوں میں ملزم کو چارج شیٹ فراہم کردی جاتی ہے جس میں اہلکار کو بتایا جاتا ہے کہ انھیں کن الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔
درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ چارج شیٹ دیے بغیر بھی کارروائی تین ماہ میں مکمل کی جاتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس معاملے میں قواعد وضوابط کا خیال نہیں رکھا گیا اور ابھی تک ان کی موکلہ کے خاوند کو چارج شیٹ نہیں دی گئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستانی فضائیہ نے کہا ہے کہ ملزم کو نومبر میں نہیں بلکہ گذشتہ ماہ گرفتار کیا گیا ہے جس پر درخواست گزار کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی وہ اس بارے پاکستان فضائیہ سے تحریر لے لیں کہ ملزم کو اس سال مارچ کے مہینے میں گرفتار کیا گیا ہے۔
عدالت نے اس بارے میں فضائیہ کو تحریری جواب داخل کروانے کا بھی حکم دیا ہے۔
درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ سکوارڈن لیڈر کو سیل میں رکھا گیا ہے جبکہ ایئرفورس ایکٹ کے تحت کسی بھی افسر کو سیل میں نہیں رکھا جاسکتا۔
انھوں نےکہا کہ سکوارڈن لیڈر کے اہل خانہ ان سے ملاقات کرکے آئے ہیں اور ان کے بقول حراست کے دوران سکوارڈن لیڈر کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا ہے۔
عدالت نے اس درخواست کی سماعت ایک ہفتے کے لیے ملتوی کر دی۔







