قحط زدہ تھر کے لیے امید کی نئی کرن

- مصنف, شاہ زیب جیلانی
- عہدہ, بی بی سی نیوز، تھر
مٹھی سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہندوؤں کے ایک گاؤں مالٹھور خانجی میں لکشمی بھیل مٹی کا گھڑا اٹھا کر اپنے سر پر توازن کے ساتھ رکھتی ہیں۔
سبز چادر اور اسی سے ہم آہنگ چولی اور لمبا لہنگا پہنے وہ ننگے پاؤں ریت پر چلتی ہوئی پاس کے ایک کنویں پر جاتی ہیں۔
اس خطے میں دور دراز کے کنوؤں پانی لانا عورتوں کا ہی کام سمجھا جاتا ہے۔ لکشمی کے لیے بھی یہ روز صبح شام کا معمول ہے۔
جب وہ کنويں پر پہنچتی ہیں تو ایک لمبی رسی اور دو خچروں کی مدد سے دو سو سے تین سو میٹر نیچے زیرِ زمین پانی کھینچتی ہیں۔
یہ خاصا مشقت کا کام ہے اور اس کے بعد جو پانی وہ گھر لاتی ہیں وہ نہ صرف کھارا ہوتا ہے بلکہ فلورائیڈ سے آلودہ بھی۔
لیکن یہاں کے لوگ یہی پانی پینے پر مجبور ہیں ۔

تھرپارکر کا شمار پاکستان کے سب سے زیادہ نظر انداز کیے جانے والے علاقوں میں ہوتا ہے۔ یہاں تین سال سے ٹھیک سے بارشیں نہیں ہوئي ہیں۔ خشک سالی نے پہلے سے مصیبت زدہ لوگوں کی مشکلات اور بڑھا دی ہیں۔
لکشمی ایک لاغر بکری کو سہلاتی ہوئی کہتی ہیں: ’اب کھانے پینے کو کچھ بچا نہیں۔ بازاروں میں تو خوراک مل رہی ہے، لیکن ہمارے پاس خریدنے کے لیے پیسے نہیں۔ مال مویشی مر رہے ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لکشمی ایک پسماندہ ہندو گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ انھوں نے کبھی سکول کا منھ نہ دیکھا اور انھیں یہ بھی پتہ نہیں کہ ان کی عمر کتنی ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ ’شاید 40 یا 50۔‘ میں نے پوچھا آپ کے بچے ہیں؟ وہ کہتی ہیں ’ہاں تقریباً چھ‘ اور پھر وہ کہتی ہیں ’کل 11 ہوئے تھے باقی بیماریوں میں مر گئے۔‘تھر میں خشک سالی ہو یا نہ ہو، غربت یہاں عام ہے۔ پانی کے امراض اور غذائیت میں کمی یہاں اموات کی اہم وجوہات ہیں۔
حشک سالی کوئی بریکنگ نیوز نہیں۔ یہ یہاں کی زندگی کا حصہ ہے جہاں ہر چند سال بعد خاندانوں کے خاندان اپنے مال مویشوں سمیت ہریالی والے علاقوں کا رخ کرتے ہیں۔
اس سے قبل میں سنہ 2000 میں تھرپارکر خشک سالی کی کوریج کے لیے آیا تھا۔ 15 سال بعد بعض معاملوں میں بہت حد تک تبدیلیاں آئی ہیں۔
تب مٹھی سے ننگرپار جانے میں کئی گھنٹے لگ جاتے تھے۔ ریتیلے راستوں پر سُست رفتار کیکڑے کا ایسا ہی ایک سفر مجھے آج بھی یاد ہے ۔ ٹرک پیچھے مال مویشوں اور دیہاتیوں بھرا ہوا تھا ،اوپر تاروں سے بھرا آسمان اور نیچے دور دور تک صحرا ہی صحرا ۔
لیکن آج یہاں باقاعدہ سڑکیں بن چکی ہیں جو تھر کے اکثر بڑے قصبوں کو آپس میں ملاتی ہیں۔
اُس وقت ریڈیو خبر کا سب سے بڑا ذریعہ تھا لیکن اب تھر کے قصبوں میں موبائل فون سگنل نے اس خطے کے لوگوں کو نہ صرف ایک دوسرے سے بلکہ باقی دنیا سے جوڑ دیا ہے۔
یہ تبدیلیاں کسی انقلاب سے کم نہیں۔
تھر میں بجلی کے تار اور کھمبوں کا آج بھی فقدان ہے، لیکن سورج کی روشنی کے استعمال کو خاصا فروغ حاصل ہوا ہے۔
اب تھر کے علاقے میں سفر کرتے ہوئے آپ کو سڑک کے کنارے مقامی افراد چھوٹے چھوٹے سولر پینل کندھے پہ اٹھائے نظر آ جاتے ہیں جو کچھ پیسوں کے عوض آپ کا موبائیل فوں چارج کر دیتے ہیں۔

لیکن مواصلات کے میدان میں اس بہتری کے باوجود، یہاں صحت اور تعلیم کا آج بھی خستہ حال ہے۔
تھر میں بچوں کی اموات کی شرح ملک کے باقی حصوں سے زیادہ ہے۔
ڈاکٹر اور نرسیں دستیاب نہیں ہوتے ۔ تھر کے اپنے پڑھے لکھے اور قابل لوگ ، یہاں کی بجائے کراچی اور حیدرآباد جیسے بڑے شہروں میں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں ۔
تھر میں بہت سے گاؤں ایسے ہیں جہاں سکول نہیں۔ سکول ہے تو استاد نہیں۔
یہ سب ایک خراب طرزِ حکمرانی کا نتیجہ ہے جو ہمیں سندھ میں ہر جگہ نظر آتا ہے۔ تھر جیسی جگہ پر یہ ناقص طرزِ حکمرانی زیادہ واضع دکھائی دیتی ہے۔
لیکن اپنی کارکردگی کے دفاع میں حکومتِ سندھ کہتی ہے کہ اس نے تھر کو صاف پانی مہیا کرنے کے لیے جو نئی سکیم متعارف کی ہے، وہ اس خطے کی تقدیر بدل سکتی ہے۔
تین کروڑ روپے سے زائد کی مالیت سے جاری اس منصوبے کے تحت زیرِ زمین پانی صاف کرنے کے لیے دیہاتوں میں سات سو پچاس فلٹر پلانٹ لگائے جا رہے ہیں ۔
اس پروجیکٹ کو چلانے والی کمپنی پاک اویسس کا کہنا ہے کہ اب تک تین سو کے لگ بھگ پلانٹ کام کر رہے ہیں اور باقی لگائے جا رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اس سکیم کے تحت زیرِ زمین پانی نکالنے کے لیے ڈنمارک کے واٹر پمپ لگائے جا رہے ہیں۔ پانی کو صاف کرنے کے لیے امریکی ممبرین ٹیکنالوجی استعمال میں لائی جا رہی ہے۔ فلٹریشن کے اس عمل کو ریورس اوسموسس (آر او) کہتے ہیں۔
یہ ان آر او پلانٹس چین سے درآمد شاہ سولی پینل یعنیٰ شمسی توانائی پر چلتے ہیں۔
سب سے بڑا آر او پلانٹ ضلعی ہیڈکوارٹر مٹھی کے قریب ایک پہاڑی پر واقع ہے۔ اس میں روزانہ 20 لاکھ گیلن پانی صاف کرنے کی گنجائش ہے، جس سے مٹھی اور اسلام کوٹ کے تقریباً تین لاکھ افراد مستفید ہوں گے۔
اس منصوبہ کا افتتاح اس سال جون میں ہونا تھا لیکن پیپلز پارٹی کی حکومت کو تھر میں اموات پر شدید عوامی تنقید کے بعد اس کا افتتاح چھہ مہینے پہلے ہی جنوری میں کردیا گیا۔
اس منصوبے پر کچھ ابتدائی تنقید بھی سامنے آئی کہ جو پلانٹ لگے اُن میں سے کچھ چلے نہیں لیکن کمپنی حکام اس تاثر کو رد کرتے ہیں ۔

مٹھی میں آر او پلانٹ کمپنی کے ترجمان ارشاد حسین نے کہا کہ ’ہمارے پلانٹس میں کوئی مسئلہ نہیں۔ہاں اگر روکاوٹیں آ رہی ہیں تو وہ مقامی سٹاف کی وجہ سے جن میں سے کچھ ان پلانٹس کو چلا نہیں پا رہے۔‘
حکام کہتے ہیں کہ آر او پلانٹ کس گاؤں میں کہاں لگانا ہے اور اس کی دیکھ بال کے لیے کس شحص کو رکھنا ہے، اس کا فیصلہ حکومتی لوگ سیاسی بنیادوں پر کرتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’اس میں بعض فیصلے تو ٹھیک نہیں ہوتے۔ جس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ کبھی کبھی ہمیں ایسے لوگوں کو ملازمت دینی پڑ جاتی ہے جن میں نہ صلاحیت ہوتی ہے نہ قابلیت۔‘
تھر میں ریلیف کے کام پر نظر رکھنے کے لیے فیاض ربانی مٹھی میں جج تعینات جج ہیں، اُن کا کہنا ہے کہ اگر یہ منصوبہ اچھے طریقے سے چلایا جائے تو یہاں کے لوگوں کا معیارِ زندگی بدل سکتا ہے۔
انھوں نے کہا’ذرا سوچئے! صاف پانی کی فراہمی سے انسانوں اور جانوروں کو بچایا جا سکتا ہے۔ اس پانی کو کھیتی باڑی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے اور دیہات خوراک میں خود کفیل ہو سکتے ہیں۔‘
شرط صرف یہ ہے کہ حکام افتتاح کرنے کے بعد اس منصوبے کو بدانتظامی کی نظر نہ کر دیں بلکہ اس سے صحرائے تھر کے لوگوں کی جو امید بندھی ہے، اُسے ذمہ داری سے پورا کر کے دکھائیں ۔

،تصویر کا ذریعہAFP







