تھرپارکر میں پھر خشک سالی کا خدشہ

- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اْردو ڈاٹ کام، مٹھی تھرپارکر
صدیوں سے پاکستان کے صحرائے تھر کے لوگوں کے پاس پانی کے حصول کے دو ذرائع ہیں، یعنی زیرِ زمین پانی یا بارش۔ لیکن اب ایک ذریعہ یعنی زمین کے نیچے پانی کا ذخیرہ ختم ہوتا جا رہا ہے۔
مٹھی سے دس کلو میٹر دور واقع گاؤں خانجی بھیل کے سو میٹر گہرے کنویں میں کبھی پانی کی سطح چار فٹ تک ہوتی تھی جو اب ایک فٹ تک رہ گئی ہے۔
دو گدھوں کی مدد سے کنویں سے پانی نکالنے میں مصروف ہاتھی بھیل نے بتایا کہ گرمی کی شدت کے ساتھ پانی کی سطح گر جاتی ہے جس کے بعد پانی زہر جیسے کڑوا بن جاتا ہے۔ یہ پانی اور کوئی استعمال بھی نہیں کرسکتا لیکن وہ کرتے ہیں کیونکہ اس کے بغیر اور کوئی چارہ نہیں۔
تھر سندھ کے جنوبی اضلاع میں شامل ہے جو مسلسل قحط سالی کی جکڑ میں ہے، کچھ ماہ پہلے بھی یہاں بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے قحط سالی میں بڑی تعداد میں مال مویشی اور ساڑھے تین سو کے قریب بچے ہلاک ہوگئے تھے۔
پاکستان میں مون سون بارشوں کا آغاز ہو چکا ہے کہ جن کا صحرا اور بارانی علاقے کے لوگ کئی ماہ انتظار کرتے ہیں۔ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ ملک کے شمالی اور وسطی علاقوں کے علاوہ بلوچستان میں صورتحال بہتر ہے لیکن سندھ کے لیے اچھی خبر نہیں۔
محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر عظمت حیات خان کا کہنا ہے کہ سندھ میں معمول سے 40 سے 60 فیصد کم بارشیں ہونے کا امکان ہے، جس کی وجہ سے پہلے ہی سے موجود قحط کے خدشات ہیں سنگین ہوجائیں گے۔
گذشتہ سال تھر میں بچوں کی ہلاکت اور خوراک کی کمی کی ذمے داری ضلعی انتظامیہ پر بھی عائد کی گئی تھی۔
ڈپٹی کمشنر تھر آصف اکرام کا کہنا ہے کہ محکمہ موسمیات کی پیشن گوئی پر انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’جب بھی قحط آتا ہے تو سب سے پہلے خوراک کی قلت پیدا ہوتی ہے، اس وقت صحت کے شعبے میں کوئی بڑا مسئلہ نہیں، مال مویشی میں بھی کوئی بیماری نہیں لیکن یہ تو ایک حقیقت ہے کہ جب بارشیں نہیں ہوں گی تو چارے کی کمی ہوگی۔‘
انھوں نے حکومت کو یہ تجویز دی ہے کہ لوگوں میں گندم کی تقیسم کو برقرار رکھا جائے۔
حکومت سندھ نے تھر میں مفت دستر خوان، ضلعی ہپستالوں کو اپ گریڈ کرنے کے بھی اعلانات کیے تھے لیکن اس پر عملدرآمد نہیں ہو سکا، نہ ہی متاثرین کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی تیسری قسط ملی ہے۔ ضلع میں 50 کے قریب ڈاکٹر بھرتی کیے گئے لیکن وہ تنخواہ سے محروم ہیں۔

حکام کا دعویٰ ہے کہ اب ہپستالوں میں دوائیں اور ڈاکٹر موجود ہیں، لیکن صرف مٹھی سول ہپستال میں گذشتہ ماہ 20 کے قریب بچوں کی ہلاکت ہوئی۔ محکمہ صحت کے ضلعی افسر ڈاکٹر عبدالجیل بھرگڑی کا کہنا ہے کہ بچے دور دراز علاقوں سے لائے جاتے ہیں اور وہ بھی اس وقت جب ان کی حالت تشویش ناک ہوتی ہے۔
میں نے ایک رات سول ہسپتال کی نرسری کا دورہ کیا تو وہاں بیڈ رکھنے کی بھی گنجائش نہیں تھی۔ نرسری میں 24 بچے موجود تھے اور بیشتر کا وزن نہایت کم تھا۔
محفوظ ڈیلیوری کی سہولت موجود نہیں، لیڈی ڈاکٹرز کم ہیں، خواتین زیادہ تر بچے دائیوں کی مدد سے پیدا کرواتی ہیں۔ خوراک کی کمی یا قلت وہ تو قحط سالی کی وجہ سے پہلے ہی چلی آرہی ہے اس میں کوئی بہتری نہیں آئی۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ معمول سے کم بارشوں کی وجہ سے اناج کی کمی اور جانوروں میں بیماریاں پھیل سکتی ہیں جس کے لیے پیشگی اقدامات کی ضرورت ہے لیکن حکومت کی جانب سے کوئی واضح حکمت عملی سامنے نہیں آسکی۔
خانجی بھیل میں اپنے چونئرے یعنی گھاس کے بنے ہوئے گھر کے آنگن میں بیٹھے ہوئے کھیتو بھیل کی نظریں آسمان کی طرف تھیں اور سیاہ بادل رخ موڑ کر اوپر سے گزر رہے تھے لیکن اس بے رخی پر بھی کھیتو مایوس نہیں تھے انھیں امید تھی کہ بادل انھیں مایوس نہیں کریں گے۔







