’سندھ میں غذائی قلت کا مسئلہ لمبے عرصے کا ہے‘

- مصنف, صبا اعتزاز
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، تھر
یورپی یونین نے سندھ کے دیہی علاقوں میں غذائی قلت کا شکار بچوں اور عورتوں کے لیے 30 ملین پاؤنڈ کے پروگرام کے آغاز کا اعلان کر دیا ہے۔
پاکستان میں یورپی یونین کے سفیرلارز گنر نے کہا کہ سندھ میں غذائی قلت کا مسئلہ لمبے دورانیے کا ہے اور اسے حل کرنے کے لیے جامع منصوبہ بندی کی اشد ضرورت ہے۔
ادھر تھر کے ضلعی ہسپتال کی انتظامیہ کے مطابق گذشتہ روز دو اور بچے غذائی قلت کی وجہ سے ہلاک ہو گئے۔بھوک اور کمزوری کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بیماریوں سے اب تک 150 بچے ہلاک ہو چکے ہیں۔
ڈاکٹروں کے مطابق تھر میں خشک سالی کا سب سے زیادہ نقصان بچوں اور حاملہ عورتوں کی صحت پر ہوا ہے۔
تھر کے مرکزی ضلعے مٹھی کے گاؤں ہوتھیار میں میرے لیے صبح کا آغاز بچوں کے بھوک سے رونے سے ہوا۔
گاؤں والوں نے ہمیں بتایا کے کبھی صبح لسی بننے کی آواز سے شروع ہوتی تھی لیکن قحط سالی کے بعد لوگ چند دانے باجرے میں پانی ملا کر پیتے ہیں۔
جب پوچھا کہ ایسا کیوں تو جواب ملا کہ ’اس سے بھوک مر جاتی ہے۔‘
23 سال کی رجمی حاملہ ہے اور ایک 8 ماہ کی بچی کی ماں بھی ہیں۔رجمی جہاں اپنی بھوک مار کر اپنے حصے کا کھانا اپنے شوہر اور ساس کو کھلاتی ہے وہیں اسے اپنی بچی کی فکر بھی کھائے جا رہی ہے جو دن میں صرف ایک وقت دودھ پی سکتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
قحط سالی اور بیماری سے اس کے خاندان کی 20 بکریاں مر چکی ہیں اور اب صرف ایک ہی بکری بچی ہے۔
رجمی بار بار کبھی دودھ کے چھوٹے سے برتن کو دیکھتی ہے اور کبھی اپنی کمزور جان بچی کو اور کہتی ہے کہ’اگر یہ بکری بھی مر گئی تو میری بچی کا کیا ہو گا؟ میں اسے کیا پلاؤں گی؟‘
تھر کے صحرائی علاقے میں پانی کے وسائل بہت کم ہیں۔ رواج کے مطابق یہاں کی عورتیں تپتی ریت میں ننگ پاؤں چلتی کنویں کا پانی نکالنے سے لے کر گھر تک رسائی کے ذمہ داری ادا کرتی ہیں۔

لیکن بارش نہ ہونے کے وجہ سے پانی لینے کے لیے ان کا سفر لمبا ہوتا جا رہا ہے۔ غریب خاندانوں کی فصلیں بھی مرجھا چکی ہیں اور جن مویشیوں کے دودھ پر وہ مشکل وقت میں گزارہ کر پاتے تھے، وہ پیاس اور بیماری سے یا تو مر چکے ہیں یا اتنے لاغر ہیں کہ انہیں خوراک نہیں مل پاتی۔
مقامی انتظامیہ کے مطابق تقریباً ایک لاکھ لوگ یہ علاقہ چھوڑ کر جا رہے ہیں لیکن بہت سے لوگ بیماری اور غربت سے مجبور یہ کرنے کے بھی قابل نہیں۔
یورپی یونین کے مطابق یہ مسئلہ طویل مدتی ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کے حکومت کے جانب سے اعلان کی گئی امداد نہ صرف تاخیر سے پہنچائی گئی بلکہ لوگوں کی ضروریات کے لیے ناکافی ہے۔
مقامی این جی او کے ایک نمائندے نے بتایا ’بھوک اور بیماری کا یہ مسئلہ اب اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ صورتحال پر قابو پاتے پاتے ہی کئی ماہ لگ سکتے ہیں اور اس دوران کئی جانیں ضائع ہو جائیں گی۔‘
علاقے میں ڈاکٹروں کی بھی قلت ہے۔پورے تھر میں بچوں کا صرف ایک ڈاکٹر ہے جبکہ علاقے میں ایک بھی گائیناکالوجسٹ نہیں ہے۔
ڈاکٹر پدماکماری نے بتایا کے یہاں کی عورتیں روایتی طریقوں سے بچے کی پیدائش کے نظام پر یقین رکھتی ہیں اور بیشتر اپنے دور دراز کے گاؤں سے ہسپتال نہیں آ سکتیں۔
لیکن قحط سالی کے نتیجے میں بہت سی خواتین حاملہ ہونے کے باوجود اپنی محدود خوراک اپنے بچوں اور اپنے خاندان کو کھلا رہی ہیں اور اب نازک حالت میں ہسپتال پہنچائی جا رہی ہیں۔ اب بعض اس قابل بھی نہیں کہ اپنے نومولد بچوں کو دودھ پلا سکے۔
اس ہنگامی صورتحال میں ہسپتال میں وسائل کی واضع کمی نظر آتی ہے اور ہمیں بتایا گیا کے صورتحال سے نمٹنے کے لیے بڑے شہروں سے کوئی بھی ڈاکٹر آنے کو تیار نہیں ہے اور نہ ہی افسران بالا نے گذشتہ کئی سالوں میں اس پر کوئی دھیان دیا ہے۔
فکر کی بات یہ ہے کے ماہرین کے مطابق حالات اگلے دو ماہ میں بگڑتے نظر آ رہے ہیں جب گرمی اپنی شدت پر ہوگی اور قحط سالی اور بیماری مزید پھیلے گی۔
حکومت کی طرف سے ابھی تک صرف ہنگامی ردعمل ہی سامنے آیا ہے لیکن کوئی پالیسی یا منصوبہ بندی پیش نہیں کی گئی۔







