ماڈل آیان علی کی ضمانت کی درخواست مسترد

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کی لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ نے غیر ملکی کرنسی بیرون ملک سمگل کرنے کے الزام میں گرفتار ہونے والی ماڈل آیان علی کی ضمانت کی درخواست مسترد کردی ہے۔
اس سے پہلے راولپنڈی کے سپیشل جج سینٹرل نے بھی ملزمہ کی ضمانت کی درخواست مسترد کردی تھی۔
جسٹس محمود مقبول باجوہ نے آیان علی کی جانب سے دائر کی گئی ضمانت کی درخواست کی سماعت کی۔
ملزمہ کے وکیل سردار اسحاق نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اُن کی موکلہ نے اس مقدمے کی تفتیش کرنے والی ٹیم کو ایسے تمام شواہد پیش کر دیے ہیں، جس سےیہ بات ثابت ہوتی ہے کہ رقم اس کی ملکیت ہے۔
ماڈل آیان علی کو کسٹم حکام نے اسلام آباد ایئر پورٹ سے دوبئی جاتے ہوئے اُس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب دستی سامان کی تلاشی کے دوران اُن کے پاس سے پانچ لاکھ ڈالر ملے تھے۔
آیان علی کے وکیل نے بتایا کہ اگر تفتیشی ٹیم اُن کی موکلہ کا بیان پر یقین نہیں کرتی ہے اور اس اقدام کو غیر قانونی قرار دیتی ہے، تو پھر بھی رقم تفتیشی ٹیم نے برآمد کر لی ہے اور بظاہر اس مقدمے کی تفتیش مکمل ہوچکی ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ آیان علی ایک ماڈل ہیں اور ایسی شخصیت کو جیل کے اندر جرائم پیشہ خواتین کے ساتھ رکھنا، اُن کی زندگی کو تباہ کرنے کے مترادف ہوگا۔ لہٰذا اُن کی موکلہ کی ضمانت منظور کی جائے۔

اس مقدمے کے تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ابھی تک اس مقدمے کی تفتیش مکمل نہیں ہوئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اُنھوں نے کہا کہ ملزمہ سے پانچ لاکھ امریکی ڈالر برآمد کیے گئے ہیں اور اُنھوں نے یہ تسلیم بھی کیا ہے کہ یہ رقم اُن کی ہے۔
تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ یہ ثابت ہو چکا ہے کہ ملزمہ غیر ملکی کرنسی بیرون ملک سمگل کر رہی تھیں اور قانون کے تحت ملزمہ کو پانچ لاکھ امریکی ڈالر پر پچاس لاکھ ڈالر تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔
تفتیشی افسر کا کہنا ہے کہ ملزمہ آیان علی اثرورسوخ رکھنے والی ماڈل ہیں۔ اس لیے اُنھیں خدشہ ہے کہ ضمانت پر رہا ہونے کے بعد وہ مقدمے کی تفتیش پر اثرانداز ہو سکتی ہیں اس لیے آیان علی کی ضمانت منظور نہ کی جائے۔
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد اس درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا اور بعدازاں ملزمہ کی ضمانت کی درخواست مسترد کردی۔
کسٹم حکام نے 14 مارچ کو اسلام آباد ایئر پورٹ سے آیان علی کو گرفتار کیا تھا۔







