لاہور: پولیس لائنز کے قریب خودکش دھماکہ، پانچ ہلاک

دھماکے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کے اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لیا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشندھماکے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کے اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لیا
    • مصنف, شمائلہ جعفری
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں پولیس لائنز کے قریب خودکش دھماکے سے پولیس اہلکار سمیت پانچ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔

یہ دھماکہ منگل کی دوپہر ایمپریس روڈ پر واقع قلعہ گوجر سنگھ پولیس لائنز کے بیرونی دروازے کے باہر ہوا ہے۔

جس وقت دھماکہ ہوا تو پولیس لائنز میں نئی بھرتیوں کے لیے امتحان ہو رہا تھا۔

پنجاب پولیس کے آئی جی مشتاق سکھیرا نے جائے وقوع کے دورے کے بعد کہا ہے کہ یہ خودکش حملہ تھا جس میں پانچ سے سات کلو دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا۔

انھوں نے کہا کہ حملہ آور پولیس لائنز کے اندر جانا چاہتا تھا لیکن سخت سکیورٹی کی وجہ سے اس نے باہر ہی خود کو اڑا لیا۔

ان کا کہنا تھا کہ دھماکے سے پانچ افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے جن میں ایک پولیس کا سب انسپکٹر بھی شامل ہے جبکہ دو پولیس اہلکاروں سمیت 25 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

آئی جی پنجاب کا کہنا تھا کہ لاہور میں خودکش حملوں کی انٹلیجنس رپورٹس موجود تھیں: ’جب سے ضرب عضب شروع ہوا ہے اور ہم سب کو علم ہے کہ ایسی صورت میں حملوں کا خطرہ موجود ہے۔ اس ۔ لیکن ہم ڈرنے والے نہیں اور بہادری سے لڑیں گے۔‘

دھماکہ پولیس لائنز سے متصل عمارت کے باہر ہوا جس سےوہاں کھڑی گاڑیوں میں آگ بھی لگ گئی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشندھماکہ پولیس لائنز سے متصل عمارت کے باہر ہوا جس سےوہاں کھڑی گاڑیوں میں آگ بھی لگ گئی

پولیس کے مطابق یہ دھماکہ دوپہر بارہ بج کر 36 منٹ پر پولیس لائنز سے متصل عمارت کے باہر ہوا جس سے موقع پر کھڑی گاڑیوں میں آگ بھی لگ گئی جبکہ اردگرد کی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔

اس دھماکے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کے اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لیا اور قناتیں لگا کر جائے وقوعہ تک رسائی روک دی۔

دھماکے کے کچھ دیر بعد ریسکیو 1122 کے کارکن بھی موقع پر پہنچ گئے اور زخمیوں کو میو اورگنگا رام ہسپتال پہنچایا۔

پولیس لائنز کے قریب موجود سکولوں میں پڑھنے والے بچوں کے والدین دھماکے کی خبر سنتے ہیں ایمپریس روڈ پہنچے اور چند گھنٹوں بعد بچوں کو بحفاظت سکولوں سے نکالا گیا۔

دھماکے کے بعد شہر بھر کی سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔ ڈی آئی جی آپریشنز حیدر اشرف کے مطابق لاہور میں تمام اہم عمارتوں، سکولوں، مساجد، عبادت گاہوں اور عوامی مقامات کی سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔

شدت پسند تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان جماعت الاحرار نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق تحریک کے ترجمان احسان اللہ احسان نے ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ملک میں دی جانے والی پھانسیوں کا جواب ہے۔

لاہور کے مصروف علاقے ایمپریس روڈ پر صرف پولیس لائنز ہی نہیں بلکہ یہاں پانچ سکول، ریڈیو پاکستان کا دفتر، پاکستان ریلوے کا ہیڈکوارٹر اور اس کے قریب امریکی قونصل خانے جیسی حساس عمارتیں بھی ہیں۔

اس علاقے میں سکیورٹی ہر وقت ہی چوکس رہتی ہے جبکہ پولیس لائنز کے گیٹ سے تقریبا بیس گز کے فاصلے پر مستقل ناکہ ہے جہاں رکاوٹیں رکھی گئیں ہیں۔