لاہور: دھماکے میں چار ہلاک، سرچ آپریش جاری

پاکستان کے صوبے پنجاب کے دارالحکومت لاہور ہونے والے بم دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد چار ہو گئی ہے۔ دھماکے میں تیس سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔
دھماکے کے بعد شہر بھر میں سکیورٹی کے انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں اور مشتبہ افراد کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔
سنیچر کی شب ہونے والا دھماکہ لاہور کے گنجان آباد علاقے پرانی انار کلی میں واقع ایک فوڈ سٹریٹ میں ہوا۔
پولیس کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق دھماکہ ٹائم ڈیوئس کی مدد سے کیا گیا ہے۔
بم دھماکے میں ہلاک ہونے والوں میں ایک چھ سالہ بچی بھی شامل ہے۔
لاہور میں بی بی سی کی نامہ نگار منا رانا نے بتایا ہے کہ دھماکہ رات ساڑھے دس بجے اس وقت ہوا جب لوگوں کی ایک بڑی تعداد فوڈ مارکیٹ میں موجود تھی۔
دھماکہ فوڈ سٹریٹ میں واقع ایک ریسٹورانٹ میں ہوا۔
عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کی آواز دور تک سنی گئی اور دھماکے سے دوکانوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور قریب ہی موجود فوڈ سٹالز کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لاہور کے سی سی پی او چوہدری شفیق نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا ہے کہ دھماکے میں چھ سالہ بچی ہلاک ہوئی ہے ۔لاہور میں گزشتہ تین برسوں کے دروان یہ پہلا بم دھماکہ ہے۔
زخمیوں کو میو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ دو زخمیوں کی حالت انتہائی نازک بتائی جا رہی ہے۔
دھماکے کے بعد پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے جبکہ لاہور میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔
پاکستان کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق علاقے میں ابھی تک تلاشی جاری ہے اور پولیس نے درجنوں افراد کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا ہے۔
لاہور کے ڈی آئی جی نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا ہے کہ دھماکہ ایک ٹائم ڈیوئس کے ذریعے کیا گیا ہے۔
پولیس اہلکار کے مطابق دھماکہ خیز مواد ایک دوکان کے باہر رکھے فریج کے نیچے چھپایا گیا تھا۔
پاکستان کے نو منتخب وزیراعظم نواز شریف کا تعلق لاہور سے ہے اور وہ حالیہ انتخابات میں لاہور شہر سے کامیاب ہو کر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ہیں۔
دھماکہ کے بعد وزیراعلیٰ شہباز شریف جو ان دنوں چین کے دورے پر ہیں، نے انتظامیہ کو سکیورٹی سخت کرنے اور زخمیوں کو بہتر طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔
لاہور میں ہونے والا دھماکہ ایک ایسے وقت پر ہوا ہے جب نواز شریف کو وزیراعظم کا عہدہ سنھبالے ایک ماہ مکمل ہوا ہے۔







