کراچی میں کالعدم تنظیم کے دو شدت پسندوں کو پھانسی

پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف کی جانب سے دہشت گردوں کی سزائے موت پر عمل درآمد کی بحالی کے اعلان کے بعد سے اب تک 22 مجرموں کو پھانسی دی جا چکی ہے
،تصویر کا کیپشنپاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف کی جانب سے دہشت گردوں کی سزائے موت پر عمل درآمد کی بحالی کے اعلان کے بعد سے اب تک 22 مجرموں کو پھانسی دی جا چکی ہے

پاکستان میں دہشت گردی کے مقدمات میں سزائے موت پانے والے مجرموں کی سزاؤں پر عملدرآمد کا سلسلہ جاری ہے اور مزید دو شدت پسندوں کو پھانسی دی گئی ہے۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ پھانسیاں کراچی کی سینٹرل جیل میں منگل کو صبح سوا چھ بجے دی گئیں۔

سزائے موت پانے والے مجرموں میں عطا اللہ اور محمد اعظم شامل تھے جن کا تعلق کالعدم تنظیم لشکرِ جھنگوی سے بتایا جاتا ہے۔

پی ٹی وی کے مطابق ان دونوں شدت پسندوں پر جون 2001 میں کراچی کے علاقے سولجر بازار میں شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر علی رضا پیرانی کو قتل کرنے کا الزام تھا۔

اس مقدمے میں انھیں سنہ 2004 میں انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج حق نواز بلوچ نے پھانسی کی سزا سنائی تھی جس پر اب عمل درآمد ہوا ہے۔

مجرموں کی جانب سے اس سزا کے خلاف اعلیٰ عدلیہ میں اپیلوں کے علاوہ صدرِ پاکستان سے رحم کی اپیل بھی کی گئی تھی، تاہم یہ سب اپیلیں مسترد ہو چکی تھیں۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ ان دونوں مجرموں کے بلیک وارنٹ 24 جنوری کو جاری کیےگئے تھے۔

پیر کو انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے ان دونوں کی جانب سے ڈیتھ وارنٹ کے اجرا کے خلاف دائر شدہ درخواست بھی مسترد کر دی تھی۔

منگل کی صبح پھانسی کے موقعے پر کراچی کی سینٹرل جیل میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔

پاکستان میں پھانسی کی سزاؤں پر عمل درآمد کا یہ سلسلہ دسمبر 2014 سے شروع ہوا تھا جب وزیرِ اعظم پاکستان نواز شریف نے پشاور میں آرمی سکول پر طالبان کے حملے میں 150 افراد کی ہلاکت کے بعد دہشت گردوں کی سزائے موت پر عمل درآمد کی بحالی کا اعلان کیا تھا۔

منگل کی صبح پھانسی کے موقع پر کراچی کی سینٹرل جیل میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنمنگل کی صبح پھانسی کے موقع پر کراچی کی سینٹرل جیل میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے

اس اعلان کے بعد سے اب تک 22 مجرموں کو ملک کی مختلف جیلوں میں پھانسی دی جا چکی ہے۔

کراچی جیل میں ان پھانسیوں سے قبل دو مجرمان بہرام خان اور محمد سعید کو پھانسی دی گئی ہے۔

اب تک پھانسی پانے والے مجرموں میں سے زیادہ تر فوجی اداروں پر حملے یا پھر سابق صدر پرویز مشرف پر قاتلانہ حملوں کے مجرم تھے جبکہ کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے کچھ شدت پسند بھی سزائے موت پانے والوں میں شامل ہیں۔

پاکستان میں پھانسیاں دینے کا عمل ایک طویل وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہوا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے ملک میں پھانسی کی سزا پر عمل درآمد روک دیا تھا۔ سنہ 2008 سے سنہ 2013 کے دوران صرف دو افراد کو پھانسی دی گئی تھی اور ان دونوں کو فوجی عدالت سے پھانسی کی سزا ہوئی تھی۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے پاس موجود اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی جیلوں میں اس وقت ساڑھے آٹھ ہزار کے قریب ایسے قیدی ہیں جنھیں موت کی سزا سنائی جا چکی ہے اور ان کی تمام اپیلیں مسترد ہو چکی ہیں۔

ان 8500 قیدیوں میں سے ایک اندازے کے مطابق 800 سے زیادہ قیدی ایسے ہیں جنھیں دہشت گردی کے مقدمات میں سزائے موت سنائی جا چکی ہے۔