20 ویں پھانسی: لاہور میں اکرام الحق کو سزائے موت دے دی گئی

،تصویر کا ذریعہGetty
سانحہ پشاور کے بعد حکومت کی جانب سے سزائے موت پر عمل درآمد کی بحالی کے اعلان کے بعد ہفتے کو لاہور کی سینٹرل جیل میں قید اکرام الحق عرف لاہوری کو پھانسی دے دی گئی ہے۔
سزائے موت پر عملدرآمد پر سے پابندی اٹھائے جانے کے بعد یہ بیسویں پھانسی ہے۔
اکرام الحق کو لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں ہفتے کی صبح پھانسی دی گئی۔
اکرام الحق کو شور کوٹ میں 2001 میں نیئر عباس کو قتل کرنے کے جرم میں پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی۔
یاد رہے کہ اکرام الحق کو آٹھ جنوری کو پھانسی دی جانی تھی تاہم اکرام الحق اور نیئر عباس کے لواحقین میں صلح نامہ ہونے کے باعث پھانسی ملتوی کر دی گئی تھی۔
سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے اکرام الحق اور نیئر عباس کے لواحقین میں صلح نامے کو مسترد کرتے ہوئے پھانسی پر عملدرآمد کا حکم سنایا۔
پاکستان کی مختلف عدالتوں میں اکرام الحق کی اپیلیں مسترد ہو چکی تھیں جس کے بعد صدر مملکت نے بھی ان کی رحم کی اپیلیں مسترد کر دی تھیں۔
کوٹ لکھپت جیل میں پھانسی دیے جانے کے موقعے پر جیل اور اطراف میں سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے قبل آٹھ جنوری کو اکرام الحق کے وکیل ایڈووکیٹ غلام مصطفیٰ کا کہنا تھا کہ نیئر عباس کے لواحقین اور اور ان کے موکل کے درمیان صلح نامہ ہو گیا تھا۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ صلح نامہ جوڈیشل میجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا۔ اس صلح نامے کے باعث اکرام الحق کی پھانسی ملتوی کر دی گئی ہے۔
’ورثا نے مجرم کو معاف کر دیا ہے اور انھوں نے اپنے بیانات میجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ کرائے ہیں کہ ہم نے اکرام الحق کو معاف کر دیا ہے۔‘
خیال رہے کہ پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف نے پشاور میں گذشہ ماہ 16 دسمبر کو طالبان شدت پسندوں کے حملے میں 132 بچوں سمیت 150 افراد کی ہلاکت کے بعد سزائے موت پر عمل درآمد کی بحالی کا اعلان کیا تھا۔
پاکستان میں مسلم لیگ ن کی حکومت نے برسرِاقتدار آنے کے بعد پھانسی کی سزاؤں پر عمل درآمد کی بحالی کا عندیہ دیا تھا۔
اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے ملک میں پھانسی کی سزا پر عمل درآمد روک دیا تھا اور سنہ 2008 سے سنہ 2013 کے دوران صرف دو افراد کو پھانسی دی گئی تھی اور ان دونوں کو فوجی عدالت سے پھانسی کی سزا ہوئی تھی۔
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے پاس موجود اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی جیلوں میں اس وقت ساڑھے آٹھ ہزار کے قریب ایسے قیدی ہیں جنھیں موت کی سزا سنائی جا چکی ہے اور ان کی تمام اپیلیں مسترد ہو چکی ہیں۔







