’مقتول کے ورثا نے معاف کردیا،‘ اکرام الحق کی پھانسی ملتوی

،تصویر کا ذریعہGetty
پاکستان کے صوبے پنجاب کے شہر لاہور کی سینٹرل جیل میں قید اکرام الحق کو دی جانے والی پھانسی مقتول کے لواحقین کی جانب سے ’معاف‘ کرنے کے بعد ملتوی کر دی گئی ہے۔
اکرام الحق کو شور کوٹ میں 2001 میں نیئر عباس کو قتل کرنے کے جرم میں پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی۔
تاہم اکرام الحق اور نیئر عباس کے لواحقین میں صلح نامہ ہونے کے باعث پھانسی ملتوی کر دی گئی۔
اکرام الحق کے وکیل ایڈووکیٹ غلام مصطفیٰ کا کہنا ہے کہ بدھ کی رات کو نیئر عباس کے لواحقین اور اور ان کے موکل کے درمیان صلح نامہ ہو گیا تھا۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ صلح نامہ جوڈیشل میجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا۔ اس صلح نامے کے باعث اکرام الحق کی پھانسی ملتوی کر دی گئی ہے۔
’ورثا نے مجرم کو معاف کر دیا ہے اور انھوں نے اپنے بیانات میجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ کرائے ہیں کہ ہم نے اکرام الحق کو معاف کر دیا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اب یہ مقدمہ دوبارہ ٹرائل کورٹ جائے گا۔
اکرام الحق کو لاہور کی جیل کوٹ لکھپت جیل میں پھانسی دی جانی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستان کی مختلف عدالتوں میں اکرام الحق کی اپیلیں مسترد ہو چکی تھیں جس کے بعد صدر مملکت نے بھی ان کی رحم کی اپیلیں مسترد کر دی تھیں۔
کوٹ لکھپت جیل میں پھانسی دیے جانے کے موقعے پر جیل اور اطراف میں سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے۔
پاکستان میں سزائے موت پر پابندی ختم ہونے کے بعد سے اب تک نو مجرموں کو پھانسی دی جا چکی ہے۔
خیال رہے کہ پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف نے پشاور میں گذشہ ماہ 16 دسمبر کو طالبان شدت پسندوں کے حملے میں 132 بچوں سمیت 150 افراد کی ہلاکت کے بعد سزائے موت پر عمل درآمد کی بحالی کا اعلان کیا تھا۔
پاکستان میں مسلم لیگ ن کی حکومت نے برسرِاقتدار آنے کے بعد پھانسی کی سزاؤں پر عمل درآمد کی بحالی کا عندیہ دیا تھا۔
اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے ملک میں پھانسی کی سزا پر عمل درآمد روک دیا تھا اور سنہ 2008 سے سنہ 2013 کے دوران صرف دو افراد کو پھانسی دی گئی تھی اور ان دونوں کو فوجی عدالت سے پھانسی کی سزا ہوئی تھی۔
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے پاس موجود اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی جیلوں میں اس وقت ساڑھے آٹھ ہزار کے قریب ایسے قیدی ہیں جنھیں موت کی سزا سنائی جا چکی ہے اور ان کی تمام اپیلیں مسترد ہو چکی ہیں۔







