’دہشت گردوں اور ان کے معاونین کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا‘

،تصویر کا ذریعہAFP
وزیراعظم محمد نوازشریف نے کہا ہے کہ قومی لائحہ عمل کے تحت دہشت گردوں اور ان کے معاونین کے مکمل خاتمے تک ان کا پیچھا کیا جائے گا۔
بدھ کو اسلام آباد میں دہشت گردی کے خلاف قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد کا جائزہ لینے کے لیے وزیراعظم کی سربراہی میں اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا۔اس اجلاس میں فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف، چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، متعلقہ وفاقی وزرا اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
سرکاری ریڈیو کے مطابق اجلاس میں وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ انسداد دہشت گردی کے قومی لائحہ عمل پر موثر عمل درآمد کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان قریبی روابط ناگزیر ہیں۔
انھوں نے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے صوبوں سے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
انھوں نے مزید کہا کہ قومی ایکشن پلان پر موثر عمل درآمد کر کے ہی ملک کے کسی بھی حصے میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں ختم کیا سکتا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی میں ملوث افراد کے خلاف مقدموں کے لیے قائم کی جانے والی فوجی عدالتوں میں فوری سماعت کے لیے مقدمات کا انتخاب کیا جا رہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے مزید کہا کہ ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کے مقصد کے تحت قانون نافذ کرنے والے تمام اداروں کی استعداد کار بہتر بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ قومی ایکشن پلان کے تحت صوبوں میں قائم اعلیٰ سطح کی کمیٹیوں کے اجلاس بھی باقاعدگی سے ہو رہے ہیں۔
اجلاس میں موجود وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی نے قومی ایکشن پلان پر ہونے والی پیش رفت کے بارے میں شرکا کو آگاہ کیا۔
پشاور میں آرمی پبلک سکول اینڈ کالج پر حملے کے بعد سے وفاقی اور صوبائی حکومت نے فوج کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خاتمے کے لیے منصوبہ بندی کی اور اس کے لیے حکومت کا کہنا ہے کہ عملی اور ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے جبکہ فوج کے سربراہ نے بھی فوج کی جانب سے قومی ایکشن پلان پر فوری اور منصفانہ اقدامات کرنے کے یقین دہانی کرائی ہے۔
پشاور حملے کے بعد قومی ایکشن پلان کے تحت ملک میں دو سال کے لیے فوجی عدالتیں قائم کی جا رہی ہیں اور اس مقصد کے لیے آئین میں ترمیم بھی کی گئی ہے۔
رواں ماہ کے شروع میں منقدہ ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں وزیراعظم نواز شریف نے کہا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کوئی بھی غير جانبدار نہیں رہ سکتا۔
پشاور میں سکول پر حملے کے بعد ملک میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے اور اس حوالے سے متعدد مقامات سے مشتبہ شدت پسندوں کو گرفتار کرنے اور ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔







