’پنجاب میں 95 کالعدم تنظیمیں متحرک‘

 اشتعال انگیز تقاریر پرملک بھر سے 341 افراد کو حراست میں لیا گیا، چوہدری نثار

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن اشتعال انگیز تقاریر پرملک بھر سے 341 افراد کو حراست میں لیا گیا، چوہدری نثار

پاکستان کی وزارت داخلہ کےمطابق صوبہ پنجاب میں اس وقت کل 95 کالعدم تنظیمیں متحرک ہیں۔

یہ بات بدھ کو وزیراعظم نواز شریف کی سربراہی میں انسداد دہشت گردی کے لیے بنائےگئے قومی لائحہ عمل پر عملدرآمد کا جائزہ اجلاس میں بتائی گئی ہے۔

اجلاس میں وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار، اور وفاقی وزیراطلاعات پرویز رشید، وزیراعظم کے قانونی مشیر، اٹارنی جنرل اور وزیراعظم کے پولیٹیکل سیکرٹری سمیت اعلیٰ عہدیداران نے شرکت کی۔

وزیراعظم ہاؤس سےجاری ایک بیان کےمطابق وزیرداخلہ چوہدری نثار نے شرکا کو قومی لائحہ عمل پر عملدرآمد کےحوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔

اجلاس کو بتایاگیا کہ صرف صوبہ پنجاب میں ایسی 95 کالعدم تنظیموں کا پتہ چلایاگیا ہے جو اب بھی شدت پسندی اور انتہا پسندانہ کاروائیوں میں ملوث ہیں۔

اس موقع پر وزیراعظم نواز شریف نے حکم دیا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو اس بات کو یقینی بنائے کہ کالعدم تنظیموں کو ملنے والی فنڈنگ کو روکنے کے اقدامات کیے جائیں اور وزارتِ اطلاعات دہشت گرد تنظیموں کی ویب سائٹس اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کو بند کرے۔

چوہدری نثار احمد خان نے بریفنگ میں بتایا کہ اسلام آباد سے 180 کے قریب دہشت گردوں کو پکڑا گیا جبکہ 48 کو باضابطہ طور پر حراست میں لیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبہ پنجاب سے 1400 مشتبہ افراد کوحراست میں لیا گیا جن میں سے 780 کو باضابطہ طور پرگرفتار کیا یا اور ان سے تحقیقات جاری ہیں۔

وزیرداخلہ نے بتایا کہ اشتعال انگیز تقاریر کرنے کے الزام میں 341 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جبکہ ایسی 41 دکانوں کا پتہ لگایا گیا ہے جہاں نفرت پر مبنی تحریری مواد فروخت ہوتا تھا۔

وزیرداخلہ کے مطابق مدارس کی نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پتہ لگایا جا سکے کہ کون کون سے مدارس دہشت گردوں کے نظریات کا پرچار کر رہے ہیں جبکہ 1100 افراد کو لاؤڈ سپیکر کا غلط استعمال کرنے پر گرفتار کر لیا گیا ہے۔

وزیراعظم کی جانب سے اگلے ہفتے قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد کی پیش رفت کے حوالے سے چاروں صوبوں کے وزراعلیٰ کا اجلاس بھی طلب کر لیاگیا ہے۔ .

.

.

.