سانحہ پشاور: چہلم میں بھی والدین شکوہ کناں

آرمی پبلک سکول
،تصویر کا کیپشنآرمی پبلک سکول کے باہر میڈیا کی ایک بڑی تعداد کوریج کے لیے آئی تھی لیکن انھیں وزیرِ اعلیٰ ہاؤس کے اندر جانے کی اجازت نہ مل سکی
    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

آرمی پبلک سکول اینڈ کالج پشاور پر حملے میں ہلاک ہونے والے افراد کا چہلم منگل کو سرکاری سطح پر وزیر اعلی ہاؤس میں منعقد ہوا۔

صوبے میں آج عام تعطیل تھی۔ رسم چہلم میں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان بھی شریک ہوئے لیکن ذرائع ابلاغ کو اس کی کوریج کرنے نہیں دی گئی۔

وزیر اعلی ہاؤس میں منعقد رسم چہلم میں ہونے والی قرآن خوانی میں بڑی تعداد میں والدین نے شرکت کی۔

اس موقع پر والدین نے عمران خان، وزیر اعلی اور گورنر خیبر پختونخوا کو اپنے مسائل سے آگاہ کیا۔

والدین کا موقف تھا کہ صوبے میں سرکاری سکولوں کو پشاور کے آرمی پبلک سکول پر حملے میں ہلاک ہونے والے بچوں کے نام سے منسوب کیا جائے، بچوں کی برسی پر سرکاری تعطیل ہونی چاہیے اور سکیورٹی انتظامات کو مزید بہتر بنایا جائے۔

حکام نے والدین کو یقین دہانی کرائی کہ جو کچھ بھی ممکن ہوا کیا جائے گا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ وہ وزیرِ اعلیٰ سے کہیں گے کہ ان کی تمام شکایات کا ازالہ کیا جائے۔

حیران کن بات یہ تھی کہ اس چہلم کی کوریج کے لیے صحافیوں کو وزیر اعلی ہاؤس میں جانے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔

دو درجن سے زیادہ صحافی وزیر اعلی ہاؤس کے باہر کوئی پانچ گھنٹے تک کھڑے رہے۔ اس دوران کچھ ناراض والدین میڈیا کے سامنے اپنے دکھ درد بیان کرتے رہے، کچھ والدین تقریب سے ناراض ہو کر وزیرِ اعلیٰ ہاؤس سے باہر آئے جہاں انھوں نے میڈیا کے سامنے حکومتی رویے پر ناراضی کا اظہار کیا۔

ان والدین کا کہنا تھا کہ وہ صرف قران خوانی کے لیے آئے تھے لیکن یہاں ان کے بچوں کی بولی لگائی جا رہی ہے۔ کچھ والدین کا موقف تھا کہ وہ حکومتی رویے سے مطمئن نہیں ہیں۔

کوریج کی اجازت نہ دیے جانے کے باوجود کئی والدین نے میڈیا سے اپنی ناراضی کا بھی اظہار کیا
،تصویر کا کیپشنکوریج کی اجازت نہ دیے جانے کے باوجود کئی والدین نے میڈیا سے اپنی ناراضی کا بھی اظہار کیا

والدین یہ نہیں بتا پائے کہ وہ کس بات پر ناراض ہیں۔ جہاں تک آرمی پبلک سکول کی سکیورٹی کا مسئلہ ہے تواس کی ذمہ داری فوج کی تھی لیکن ان والدین نے فوجی حکام کے حوالے سے اس طرح کی کوئی بات نہیں کی۔

آرمی پبلک سکول میں زیر تعلیم ایک بچے کی بہن ہاجرہ نور نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ والدین کا سب سے بڑا مطالبہ یہی تھا کہ انھیں تحفظ فراہم کیا جائے۔

سرکاری سطح پر چہلم منعقد کرانے کا فیصلہ آرمی پبلک سکول اینڈ کالج میں گذشتہ ہفتے عمران خان کے دورے کے بعد کیا گیا تھا۔ عمران خان کے اس دورے میں والدین نے سخت احتجاج کیا تھا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ انھیں نہیں معلوم کہ احتجاج کس وجہ سے کیا گیا، کیونکہ وہ والدین سے ملنے گئے لیکن والدین کا نہ تو کوئی مطالبہ تھا اور نہ ہی انھوں نے ان سے کسی قسم کا گلہ شکوہ کیا تھا۔

رسم چہلم میں شرکت کے لیے عمران خان صرف دو گاڑیوں کے قافلے میں پہنچے، چہلم میں شرکت کی اور میڈیا سے بات چیت کیے بغیر واپس چلے گئے۔

مبصرین کا کہنا تھا کہ یہ بات سمجھ سے بالا تر تھی کہ آخر میڈیا کو اس کی کوریج سے کیوں روکا گیا۔ ایک تاثر یہ تھا کہ حکومت نہیں چاہتی تھی کہ والدین کے گلے شکوے اور شکایات میڈیا پر آئیں یا عمران خان شاید پشاور کے صحافیوں کے سوالوں کے جواب نہیں دینا چاہتے تھے۔

عمران خان نے آج صبح پشاور روانگی سے پہلے اسلام آباد میں میڈیا سے مختصر بات چیت کی لیکن وہاں ان سے والدین کے تحفظات کے بارے میں کوئی سوال نہیں پوچھے گئے۔