’بھائی کے کارنامے نے خاندان کا سر فخر سے بلند کر دیا‘

- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ہنگو
پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو کا گاؤں ابراہیم گذشتہ ایک سال سے ملکی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔
یہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ایک دن یہ چھوٹا ساگاؤں ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے نوجوان کی جان کے نذرانے کے باعث اتنی شہرت حاصل کر لے گا۔
یہ نوجوان گاؤں کے سکول میں نویں جماعت کے 16 سالا طالب علم اعتزاز حسن تھے، جنھوں نے جان کی پروا کیے بغیر سکول پر حملے کی نیت سے آنے والے ایک خود کش حملہ آور کو دبوچ لیا تھا جس میں وہ خود جان گنوا بیٹھے تھے۔
مقامی لوگ بتاتے ہیں کہ اس نوجوان کی اس بہادری کے باعث تقریباً 800 کے قریب طالب علموں کی زندگیاں بچ گئی تھیں۔
ابراہیم زئی گاؤں میں منگل کو اعتزاز حسن کی پہلی برسی منائی گئی جس میں صوبے کی سیاسی، سماجی اور مذہبی شخصیات نے شرکت کی۔
تقریب میں ضلع ہنگو کے سول و فوجی افسران کے علاوہ عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکریٹری جنرل اور سابق صوبائی وزیر میاں افتخار حسین نے بھی شرکت کی۔
اعتزاز کے بھائی مجتبیٰ حسن نے بی بی سی کو بتایا کہ ایک سال اپنے بھائی کی شہادت کو یاد کرتے ایسا گزر گیا جسے کل کی بات ہو۔
انھوں نے کہا: ’جب میں اعتزاز کو یاد کرتا ہوں تو دکھ بھی ہوتا ہے اور فخر بھی محسوس کرتا ہوں کیونکہ وہ میرا واحد چھوٹا بھائی تھا لیکن اس کے کارنامے نے ہمارے پورے خاندان کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مجتبیٰ حسن کے مطابق یہ ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ان کا چھوٹا بھائی اتنا بڑا کارنامہ سر انجام دے گا جو پورے ملک اور قوم کے لیےعزت کا باعث ہو گا۔
انھوں نے کہا: ’اعتزاز حسن سمیت جن لوگوں اور سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جان کے نذرانے پیش کیے ہیں وہ ایک دن ضرور رنگ لائیں گے۔‘
مجتبیٰ حسن نے بتایا کہ اعتزاز حسن کی موت کے بعد ان کے ساتھ حکومت کی جانب سے جو وعدے کیے گئے تھے ان پر عمل درآمد نہیں کیا جا رہا۔
انھوں نے کہا کہ گاؤں کا واحد ہائی سکول اعتزاز حسن کے نام سے موسوم کرنے کا اعلان کیا گیا تھا لیکن تاحال سکول کا نام باضابطہ طور پر تبدیل نہیں کیا گیا۔

پشاور میں آرمی سکول پر ہونے والے طالبان کے حملے نے اعتزاز حسن کی قربانی کو مزید اجاگر کر دیا ہے۔
ان کے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ اگر اعتزاز حسن جان کا نذرانہ پیش نہ کرتے تو شاید آج کے دن وہ کئی شہدا کی پہلی برسی منا رہے ہوتے۔
ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ ایک سال کے دوران ملک میں دہشت گردی میں کمی کی بجائے اضافہ ہوا ہے لہٰذا اب ضرروت اس امر کی ہے کہ اس ناسور سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جان چھڑائی جائے۔
اعتزاز حسن کی قربانی نے سینکڑوں طالب علموں کی زندگیاں تو بچا لیں لیکن ابراہیم زئی گاؤں میں بدستور خوف کی کیفیت پائی جاتی ہے۔
گاؤں میں اکثریت آبادی شیعہ فرقے سے تعلق رکھتی ہے جس کی وجہ سے یہاں اکثر اوقات تناؤ کی کیفیت پائی جاتی ہے۔ گاؤں میں مقامی باشندوں نے سکیورٹی کا خود انتظام کیا ہوا ہے۔
ابراہیم زئی گاؤں کو جانے والے تمام راستوں پر مقامی افراد کی جانب سے چیک پوسٹیں بنائی گئی ہیں جہاں ہر وقت مقامی افراد اسلحہ تھامے نظر آتے ہیں اور ہرگاڑی کی باقاعدہ تلاشی لی جاتی ہے۔
جب گاؤں میں کسی تقریب کا انعقاد کیا جاتا ہے تو ایسے موقعوں پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے جاتے ہیں۔
اعتزاز حسن کے بھائی مجتبیٰ حسن بھی ہر وقت سکیورٹی کے حصار میں رہتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے انھیں حال ہی میں بعض نا معلوم افراد کی جانب سے دھمکیاں دی گئی ہیں جس کی وجہ سے وہ گاؤں سے باہر جانے میں احتیاط سے کام لیتے ہیں۔
ضلع ہنگو ماضی میں فرقہ وارانہ تشدد کے حوالے سے انتہائی حساس رہا ہے تاہم گذشتہ چند سالوں سے علاقے میں امن و امان کی صورت حال میں کسی حد تک بہتری آئی ہے۔







