’شہری جنازے اٹھا اٹھا کر تھک گئے ہیں‘

پشاور کے آرمی پبلک سکول اینڈ کالج پر حملے میں ہلاک ہونے والے 40 افراد کا تعلق اندرون پشاور شہر سے بتایا گیا ہے
،تصویر کا کیپشنپشاور کے آرمی پبلک سکول اینڈ کالج پر حملے میں ہلاک ہونے والے 40 افراد کا تعلق اندرون پشاور شہر سے بتایا گیا ہے
    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخواہ کا دارالحکومت پشاور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن شہر رہا ہے۔

پشاور کے آرمی پبلک سکول اینڈ کالج پر حملے میں ہلاک ہونے والے 40 افراد کا تعلق اندرون پشاور شہر سے بتایا گیا ہے۔

ہلاک ہونے والے 20 بچوں کا تعلق گلبہار سے تھا جبکہ لگ بھگ اتنے ہی بچے ایسے تھے جو اندرون شہر کے علاقوں قصہ خوانی،گنج، کوہاٹی، یکہ توت اور فقیر آباد میں رہتے تھے۔

آرمی پبلک سکول پشاور میں ان دنوں طلبہ کے علاوہ عام لوگ بھی پہنچ رہے ہیں جو خود وہ مقام دیکھنا چاہتے ہیں۔ سکول میں ان کے لیے علیحدہ ایک مقام مختص کیا گیا ہے جہاں لوگ اپنے پیغامات درج کراتے ہیں، یہاں جہاں قران خوانی کی جاتی ہے اور اس حملے میں ہلاک ہونے والے افراد کو یاد کیا جاتا ہے۔

مختلف شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگ آرمی پبلک سکول میں ہلاک ہونے والے بچوں کو خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں
،تصویر کا کیپشنمختلف شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگ آرمی پبلک سکول میں ہلاک ہونے والے بچوں کو خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں

اس سکول میں اندرون شہر کے رہائشی ابرار احمد موجود بھی تھے۔ انھوں نے بتایا کہ سنہ 2007 کے بعد سے پشاور میں تشدد کے بے شمار واقعات ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ پشاور شہر کے لوگ جنازے اٹھا اٹھا کر تھک گئے ہیں لیکن آرمی پبلک سکول پر حملے نے تو شہریوں کی کمر توڑ دی ہے۔

ابرار احمد نے کہا کہ چھوٹے بچوں کے یہ جنازے بہت ہی بھاری تھے۔ پشاور کے آرمی پبلک سکول حملے میں ان کے خاندان کے دو بچے ہلاک ہوئے۔

ابرار احمد نے بتایا کہ مینا بازار میں ہونے والے بم دھماکے میں بھی ان کے دو رشتے دار ہلاک ہو گئے تھے۔

پشاور کے آرمی پبلک سکول کے بڑے میدان میں چاروں جانب کہیں پھول رکھے گئے ہیں تو کہیں ہلاک ہونے والے بچوں کی تصویریں لگائی گئی ہیں
،تصویر کا کیپشنپشاور کے آرمی پبلک سکول کے بڑے میدان میں چاروں جانب کہیں پھول رکھے گئے ہیں تو کہیں ہلاک ہونے والے بچوں کی تصویریں لگائی گئی ہیں

ان کے مطابق تشدد کے ان واقعات سے اندرون شہر کے لوگوں کا کاروبار ٹھپ ہو گیا ہے، لوگ خطرات کی وجہ سے باہر نہیں نکلتے، نوکر پیشہ افراد ہر وقت اس خوف میں ہوتے ہیں کہ کہیں کچھ ہو نہ جائے، کبھی خود کش دھماکے تو کبھی ٹارگٹ کلنگ، کبھی فرقہ وارانہ تشدد تو کبھی آپریشنوں کا خوف، یہ سب کچھ اندرون شہر میں ہو رہا ہے۔

ابرار احمد نے کہا کہ حکومت کو اب ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے صرف مذاکرات اور کمیٹیوں کے قیام سے کچھ نہیں ہوگا۔ حکومت کو یہ یقین دہانی کرانا ہوگی کی آئندہ سال یہاں تشدد نہیں بلکہ خوشحالی ہوگی۔

پشاور کے آرمی پبلک سکول کے بڑے میدان میں چاروں جانب کہیں پھول رکھے گئے ہیں تو کہیں ہلاک ہونے والے بچوں کی تصویریں لگائی گئی ہیں۔

گذشتہ ہفتے ہونے والے اس حملے میں 134 بچوں سمیت 150 افراد ہلاک ہوئے تھے
،تصویر کا کیپشنگذشتہ ہفتے ہونے والے اس حملے میں 134 بچوں سمیت 150 افراد ہلاک ہوئے تھے

ایک خاتون عاصمہ نے کہا کہ ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد میں ان کا کوئی رشتہ دار نہیں تھا لیکن یہ غم ایسا ہے کہ ہم اسے بھول نہیں سکتے۔

انھوں نے کہا کہ وہ اس واقعے سے خوفزدہ نہیں بلکہ وہ حکومت پر دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں کہ لوگوں کو تحفظ فراہم کرے اور اس کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔

اس موقعے پر آرمی پبلک سکول کی ساتویں جماعت کا ایک طالبعلم ثنا اللہ اپنے والدین کے ساتھ موجود تھا، اس نے سارا واقعہ خود اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔

ثنا اللہ نے بتایا کہ انھوں نے ایک خود کش بمبار کو دیکھا جو شکل و صورت سے بہت پیارا تھا لیکن جب اس نے فائرنگ شروع کی تو وہ پریشان ہوا کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔

صرف آرمی پبلک سکول ہی نہیں بلکہ شہر کے مختلف مقامات پر سکول کے ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد کی یاد میں شمعیں روشن کی جا رہی ہیں اور دیواروں پر پوسٹر لگا کر اپنے پیغامات نمایاں کیے جاتے ہیں۔