پشاور: سکول پر حملے کی تفتیش میں اہم پیش رفت کے دعوے

عمران خان نے وفاقی حکومت سے کئی مطالبات کیے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنعمران خان نے وفاقی حکومت سے کئی مطالبات کیے ہیں
    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پشاور میں آرمی پبلک سکول پر حملے کی تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے اور چند روز میں ایک سو کے لگ بھگ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے ان میں حکام کے مطابق اہم ملزمان بھی شامل ہیں۔

سکیورٹی اداروں نے چند روز میں پشاور کے علاقے تہکال میں مشتبہ مقامات پر چھاپے مارے ہیں جہاں سے اہم گرفتاریاں عمل میں لائی گئی ہیں۔

اس کےعلاوہ متاثرہ سکول کے قریب ورسک روڈ پر بھی چند اہم رہائشی علاقوں سے 70 سے زیادہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے ۔

ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ سکیورٹی حکام نے کچھ گرفتاریاں خیبر پختونخوا اور پنجاب کے دو شہروں سے بھی کی ہیں جن سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے ۔

یہاں ایسی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں کہ سکیورٹی حکام نے حملہ آوروں کے فون رابطے حاصل کر کے ان کی بنیاد پر تحقیقات کی ہیں جس کی وجہ سے وہ حملہ کرنے والوں کے منصوبہ سازوں تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

سکول پر حملے کے بارے میں مزید تحقیقات جاری ہیں لیکن کیا پیش رفت ہوئی ہے اس بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کی جا رہیں کیونکہ حکام کے بقول اس سے تفتیش پر اثر پڑ سکتا ہے ۔

ادھر آج پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے پشاور کے دورے کے دوران کہا ہے کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے وفاقی حکومت خیبر پختونخوا حکومت کی مدد کرے۔

وہ پیر کو پشاور میں آرمی پبلک سکول کے دورے اور اس سکول کی ہلاک ہونے والی پرنسپل کی فاتحہ خوانی کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔

انھوں نے اس اخباری کانفرنس میں متعدد مطالبات سامنے رکھے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ فرنٹیئر کانسٹیبلری کو صوبے کے حوالے کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ فرنٹیئر کانسٹیبلری بنیادی طور پر قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخوا کی سرحد پر تعیناتی کے لیے قائم کی گئی تھی لیکن اب یہ فورس پورے پاکستان میں ہے ۔

انھوں نے وفاقی حکومت سے کہا کہ وہ فاٹا سے خیبر پختونخوا کے لیے پانچ ہزار پولیس اہلکار تعینات کرے اور انٹیلیجنس میں مدد فراہم کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ فاٹا سے پولیس میں تعیناتی سے سرحدوں کی حفاظت میں مدد ملے گی۔

عمران خان نے وفاق سے کہا کہ غیر قانونی طور پر مقیم افغان پناہ گزینوں کو وطن واپس بھیجے اور قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن کے نتیجے میں نقل مکانی کرنے والے افراد کی مدد کے لیے خیبر پختونخوا حکومت سے مالی تعاون کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت خیبر پختونخوا اپنے وسائل سے بیس لاکھ سے زیادہ متاثرین کی مدد کر رہی ہے ۔