کیا جہاد کی پالیسی تبدیل ہو پائے گی؟

آرمی پبلک سکول پر ہونے والا حملہ شاید پہلا ایسا دل خراش واقعہ ہے جس نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنآرمی پبلک سکول پر ہونے والا حملہ شاید پہلا ایسا دل خراش واقعہ ہے جس نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا ہے
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پشاور میں سکول پر ہونے والے طالبان حملے کے بعد ملک میں یہ بات مسلسل دہرائی جا رہی ہے کہ شدت پسندی پر قابو پانے کےلیے ملک کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی لائی جائے۔

پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران عوام اور سکیورٹی اداروں نے گذشتہ دس سالوں کے دوران بے پناہ قربانیاں پیش کی ہیں۔ ملک کا کوئی ایسا شعبہ نہیں جو اس جنگ کی وجہ سے متاثر نہیں ہوا۔

ابتدائی طور پر اس جنگ کا مرکز قبائلی علاقے رہے، تاہم رفتہ رفتہ یہ آگ خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں اور بعد میں پورے ملک تک پھیل گئی۔ آج پورا ملک اس کی لپیٹ میں ہے، کہیں اس شدت کم ہے تو کہیں زیادہ ۔

پشاور اس جنگ کی وجہ سے سب زیادہ متاثر ہوا۔ فرنٹ لائن شہر ہونے کی وجہ سے پشاور میں دہشت گردی کے بڑے بڑے واقعات پیش آئے لیکن 16 دسمبر کو آرمی پبلک سکول پر ہونے والا حملہ شاید پہلا ایسا دل خراش واقعہ ہے جس نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہepa

اس حملے کے بعد سے عوامی اور سیاسی سطح پر اس دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے کہ ملک میں شدت پسندوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی جائے اور اس ناسور سے ہمیشہ ہمیشہ کےلیے جان چھڑائی جائے، چاہے اس کے لیے خارجہ پالیسی میں تبدیلی ہی کیوں نہ کرنی پڑے۔

شدت پسندی پر تحقیق کرنے والے سینیئر تجزیہ کار اور مصنف ڈاکٹر خادم حسین کا کہنا ہے کہ خارجہ پالیسی کی تبدیلی کے لیے بہت کچھ بدلنا پڑے گا۔

خادم حسین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو ایک سکیورٹی ریاست سے فلاحی ریاست میں تبدیل کرنے کے لیے ’ملک میں جہاد کی نرسریوں کو ریاستی سطح پر بند کرنا ہوگا۔‘

انھوں نے کہا کہ جس طرح ریاست جہادی نظریے کو پروان چڑھانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائی اسی طرح اب اس نظریے سے چھٹکارے کے لیے اتنی ہی تندہی سے کام کرنا ہو گا۔

خادم حسین کے مطابق: ’فاٹا میں جہاد کی بجائے اب معاشیات کی پالیسی پر عمل پیرا ہو کر وہاں بڑے پیمانے پر سیاسی اور معاشی اصلاحات کرنی ہوں گی۔ مدراس کے نظام میں بھی تبدیلی لانا پڑے گی جبکہ پاک افغان سرحد پر مسائل کو افغانستان کے ساتھ مل کر حل کرنا ہو گا۔‘

ان کے بقول ریاست کو ملک کے عوام اور عالمی برادری کو عملی طور پر یہ بھی دکھانا ہو گا کہ وہ اس پالیسی کی تبدیلی میں سنجیدہ ہے اور پہلے کی طرح کسی دوغلے پن کا مظاہرہ نہیں کر رہا۔

تاہم بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ خارجہ پالیسی میں بنیادی تبدیلی کے بارے سے کچھ زیادہ پرامید نہیں رہنا چاہیے۔

امریکہ میں پی ایچ ڈی کے سکالر اور اسسٹنٹ پروفسیر سید عرفان اشرف نے کہا کہ اس میں شک نہیں کہ پشاور میں آرمی سکول پر حملے نے فوجی قیادت کو بھی سوچنے پر مجبور کر دیا ہے تاہم اس حوالے سے زیادہ امیدیں وابستہ نہیں کرنا چاہییں۔

انھوں نے کہا کہ سب سے پہلے اس بات کو دیکھنا چاہیے کہ اس پالیسی کے خاتمے سے کس کو نقصان ہوگا۔

،تصویر کا ذریعہAP

ان کے بقول ’بہت بڑا ظلم ہوا ہے اور پھر سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس میں فوجی افسران اور اہلکاروں کے بچے ہلاک ہوئے ہیں جس کی وجہ سے بظاہر فوج کے اندر بھی شدید ردعمل پایا جاتا ہے اور ابتدائی جوابی کارروائی بھی سخت ہوگی لیکن شاید کچھ عرصہ کے بعد یہ معاملہ پھر سے ٹھنڈا پڑ جائے۔‘

انھوں نے کہا کہ پالیسی کی تبدیلی کی صورت میں ریاست کے مقتدر اور طاقت ور اداروں کے ہاتھوں سے طاقت جانے کا امکان ہے جبکہ اس کا فائدہ سیاسی قیادت کو ہو گا اس لیے بظاہر کسی بڑی تبدیلی کے اشارے نہیں مل رہے۔

اس بات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ سکول حملے کے بعد سے جس طرح فوجی اور سیاسی قیادت نے یکجا ہوکر عزم دکھایا ہے اس سے بیشتر مبصرین یہ سمجھتے ہیں کہ شاید خارجہ پالیسی میں مکمل تبدیلی تو نہ ہو لیکن پہلے کے مقابلے میں کچھ نہ کچھ تبدیلی ضرور آئے گی۔