افغان فوج کی کارروائی میں 150 سے زائد طالبان ہلاک

افغانستان کی سحدی حدود میں فوجی کاروائی میں 150 سے زائد طالبان کی ہلاکت، پولیس چیف

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنافغانستان کی سحدی حدود میں فوجی کاروائی میں 150 سے زائد طالبان کی ہلاکت، پولیس چیف

افغان فوج نے اپنی سرحدوں میں مقامی طالبان سمیت پاکستانی طالبان اور لشکرطیبہ کے خلاف کارروائی کی ہے جس میں حکام نے 150 سے زائد طالبان کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے افغان پولیس کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ گذشتہ 12 دنوں کے دوران پاک افغان باڈر پر فوج کی کارروائی میں 151 طالبان ہلاک ہوئے ہیں۔

افغان صوبے کنڑ میں پولیس چیف جنرل عبدالحبیب سید خلیلی کے مطابق پاکستانی سرحد کے قریب افعانستان کے مشرقی علاقوں میں 12 روزہ کاروائی میں 150 سے زائد شدت پسند ہلاک ہوئے جبکہ ضلع دنگام میں کارروائی میں لشکر طیبہ اور ٹی ٹی پی سمیت دیگر شدت پسندوں کے ساتھ لڑائی میں 100 حملہ آور زخمی ہوئے۔

’لڑائی کے دوران 17 غیر ملکی جنگجوؤں کی ہلاکت اس بات کا ثبوت ہے کہ مقامی شدت پسندوں کو غیر ملکیوں کی حمایت حاصل ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ ضلع دنگام سرحد کے بہت قریب ہے اور دوسری جانب سے سرحد پار کر کے یہاں حملہ کرنا آسان ہے۔

افغان پولیس چیف کا یہ بھی کہنا تھا کہ غیر ملکی طالبان کا افغانستان میں موجود ہونا غیر معمولی نہیں ہے۔

اس خیال کا اظہار بھی کیاجاتا ہے کہ افغان طالبان کی قیادت پاکستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں موجود ہے اور افغان حکام پاکستان پر الزام عائد کرتے ہیں کہ پاکستان نے اس جانب سے آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔

ضلع دنگام پاکستانی سرحد سے ڈھائی کلومیٹر دور ہے۔ افغان فوج کی جانب سے کی جانے والی اس کارروائی میں 151 شدت پسندوں کے اس دعوے کی تصدیق طالبان نے نہیں کی تاہم ان کی جانب سے اس ضمن میں کوئی اعدادوشمار جاری نہیں کیے۔

سید خلجی کے مطابق اس کارروائی میں مقامی لوگوں نے سکیورٹی فورسز کا ساتھ دیا اور مقامی لوگوں اور فورسز سمیت 5 افراد ہلاک ہوئے۔

اہم بات یہ ہے کہ پاکستانی طالبان کے خلاف افغان سرحد میں ہونے والی اس کارروائی میں نہ تو پاکستانی فوج اور نہ ہی افغانستان میں تعینات بین الاقوامی فورسز میں سے کسی نے شرکت کی۔

نیٹو اور امریکی افواج کا انخلاء 31 دسمبر کو مکمل ہوگا تاہم تقریباً 13 ہزار فوجی افغان فورسز کو تربیت دینے اور میدان جنگ میں ضرورت پڑنے پر مدد فراہم کرنے کے لیے موجود رہیں گے۔

چار ماہ قبل افغانستان کے صوبے کنڑ سے بین الاقوامی افواج کی واپسی کے بعد طالبان کے حملوں میں اضافہ ہوا اور ملک بھر میں لڑائی میں شدت آئی۔

یاد رہے کہ افغان حکام کی جانب سے افغانستان کی سرحد میں پاکستانی شدت پسندوں کے خلاف فوجی کارروائی کے حوالے سے بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب افغان آرمی کے چیف آف جنرل سٹاف جنرل شیر محمد کریمی اور ایساف کے کمانڈر جان کیمبیل نے پاکستان کا دورہ کیا۔

جنرل راحیل شریف نے تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ ملا فضل اللہ کی حوالگی کے لیے افغان قیادت سے مدد طلب کی۔ جواب میں انھیں افغان حکومت کی جانب سے یقین دہانی کروائی گئی کہ افغان صوبے کنڑ میں موجود طالبان کے اس دھڑے کے خلاف کارروائی کی جائے گی جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ پشاور کے سکول میں حملے کا ذمہ دار ہے۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ تحریری بیان کے مطابق افغان نیشنل آرمی کے چیف آف جنرل سٹاف جنرل شیر محمد کریمی نے افغانستان میں تعینات ایساف کے سربراہ جنرل جان کیمبیل کے ہمراہ جی ایچ کیو راولپنڈی کا دورہ کیا۔

اس موقعے پر پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے افغانستان کی جانب سے حال ہی میں افغان سرحدی علاقوں میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے خلاف کیے جانے والے آپریشن کی تعریف کی۔

’جنرل راحیل شریف نے ہر سطح بشمول متعلقہ علاقوں میں تعاون پر مبنی کارروائیوں اور خفیہ معلومات کے تبادلے کے لیے افغان چیف آف جنرل سٹاف اور ایساف کمانڈر کو مکمل حمایت فراہم کرنے کی یقین دہانی کروائی۔

جنرل کریمی اور جنرل جان کیمبیل نے پشاور میں دہشت گردی کے واقعے میں 133 بچوں سمیت 149 افراد کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا۔ دونوں رہنماؤں نے پاکستان کی فوجی قیادت کو یقین دہانی کروائی کہ دہشت گردی کے خاتمے اور افغان سرزمین سے شدت پسندوں کے خاتمے کے لیے تعاون کیا جائے گا۔

پاک افغان اور ایساف کمانڈروں کے درمیان ہونے والے سہ فریقی مذاکرات میں آرمی چیف کے علاوہ ڈی جی آئی ایس پی آر اور دیگر اہم فوجی رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔ اس موقعے پر خطے کی مجموعی صورتِ حال، پاک افغان سرحدی تعاون اور سرحدی نظام کے بارے میں پروٹوکول پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

افغان آرمی کے چیف آف جنرل سٹاف اور ایساف کمانڈر نے تسلیم کیا کہ پاکستان کی جانب سے شدت پسندوں کے خلاف جاری بلاامتیاز طور پر کیے جانے والے آپریشن ضرب عضب سے شدت پسندوں کے نیٹ ورکس کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

یاد رہے کہ 16 دسمبر کو پشاور کےآرمی پبلک سکول میں دہشت گردوں کے حملے کے اگلے روز ہی پاکستان کے آرمی چیف نے کابل کا ہنگامی دورہ کیا تھا اور افغانستان کی سول اور فوجی قیادت سے اہم ملاقات کی تھی۔