افغانستان: کابل میں سکول کی تقریب میں خودکش حملہ

،تصویر کا ذریعہAP
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ایک سکول کی تقریب میں خودکش حملہ ہوا ہے جس میں کم سے کم ایک شخص ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔
فرانسیسی حکام کے مطابق سکول میں ہونے والے خودکش بم حملے میں متعدد افراد ہلاک ہو گئے ہیں اور پندرہ کے قریب زخمی ہیں۔
فرانس کے وزیر خارجہ لوراں فیبیوس نے خودکش حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہلاک ہونے والے افراد میں فرانس کا کوئی شہری شامل نہیں ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
فرانسیسی وزیر خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق’میں سختی سے دہشت گردی کے اس اقدام کی مذمت کرتا ہوں جس میں متعدد افراد مارے گئے اور کئی زخمی ہو گئے۔ ہلاک ہونے والوں میں کوئی فرانسیسی شامل نہیں ہے۔‘
وزیر خارجہ نے واقعے کو ظالمانہ اقدام قرار دیتے ہوئے اس میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا عہد کیا۔
انھوں نے کہا ہے کہ اس واقعے کی تحقیقات کے لیے کابل اور پیرس میں کرائسس یونٹ قائم کر دیے گئے ہیں۔
افغانستان کے قائم مقام وزیر داخلہ ایوب سالنگی نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ حملہ فرانس کی مدد سے چلنے والے استقلال نامی سکول میں ہوا۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
کابل میں جمعرات کو ہونے والا یہ دوسرا بم حملہ ہے۔ اسے سے پہلے کابل کے نواح میں ایک خودکش بمبار نے دھماکہ کر کے چھ افغان سیکیورٹی اہلکاروں کو ہلاک کر دیا تھا۔ طالبان نے اس کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
1974 میں بننے والا یہ سکول کابل کے بہترین سکولوں میں شمار ہوتا ہے اور اس میں دو ہزار طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔
ایک عینی شاہد نے بتایا ہے کہ خودکش حملہ آور تماشائیوں میں بیٹھا تھا جہاں اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔
اُدھر افغان حکام نےایران کی سرحد کے قریب ایک اہم قصبے کے بازار پر طالبان کے قبضہ کرنے کے دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔
مغربی صوبے ہرات کے گورنر نے بی بی سی کو بتایا کہ افغان فورسز نے شِین ڈنڈ نامی اس قصبے کے بازار پر قبضہ کرنے کی کوشش ناکام بنا دی ہے اور 20 طالبان جنگجوؤں کو بھی ہلاک کر دیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP







